میرا دوست شادی شدہ ہےاس کے علاوہ ایک اور لڑکی کے ساتھ بھی تعلق ہے۔دوسری لڑکی سے فون پر بات کر رہا تھا ۔تو کہا تم کیا چاہتی ہو کہ میں اپنی کو کہوں طلاق۔طلاق۔طلاق۔تو اس صورت میں کیا حکم ہے۔حالانکہ شادی کو دس سال ہوگئے ہیں ۔گھر کے معاملات بھی درست ہیں۔یعنی کوئی لڑائی جھگڑا نہیں۔اونہ کبھی ایسا سوچا کہ کبھی بیوی کو چھوڑوں گا۔۔
صورت مسؤلہ میں سائل کے دوست نے مذکور الفاظ اگر کسی سے بات چیت کے دوران بطور استفسار سامنے والے کی خواہش کو اپنے لفظوں میں بیان کیا ہو تو ان الفاظ سے اگرچہ اس کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی ، بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور قائم ہے،لیکن آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیے،تاہم سائل کے دوست کا اجنبی لڑکی سے بات چیت اور بےتکلفی کا تعلق رکھنا ناجائز وحرام ہے،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہورہا ہے،جس پر بصدق دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے آئندہ ان ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب لازم ہے۔
کما فی البدائع: وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكناية أو شرعا، وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ أما اللفظ فمثل أن يقول في الكناية: أنت بائن أو أبنتك أو يقول في الصريح أنت طالق أو طلقتك وما يجري هذا المجرى،اھ(كتاب الطلاق،فصل في بيان ركن الطلاق،ج: 3،ص: 98،مط: دار الکتب العلمیہ)
و فی الدر المختار: الخلوة بالأجنبية حرام إلا لملازمة مديونة هربت ودخلت خربة أو كانت عجوزا شوهاء أو بحائل، والخلوة بالمحرم مباحة إلا الأخت رضاعا، والصهرة الشابة وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها وإلا لا انتهى،اھ(كتاب الحظر والإباحة،فصل في النظر والمس،ج:6،ص: 368،مط: دارالفکر)