میری بیوی مسلمان ہوئی ہے، مگر اس نے دین کو ابھی تک نہیں پڑھا ہے، اس سے ایک گناہ ہوا ہے، جو کسی غیر مرد کے ساتھ ہوا ہے ،بیوی اقرار کرتی ہےکہ یہ گناہ ہوا ہے مگر اس کے پیچھے بہت زیادہ مسائل ہیں، اس میں ایک شخص اور ایک عورت کا آمادہ کرنابھی شامل ہے اور زبردستی بھی شامل ہے ،بیوی کی عمر بیس سال ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا بیوی کو شریعت کی رو سے طلاق دے دی جائے یا جس طرح وہ رو رہی ہے اور موقع مانگ رہی ہے تو موقع دیا جائے ؟ مہربانی فرماکر میری مشکل کو آسان کیا جائے ۔
واضح ہو کہ زنا کا ارتکاب کرنا ناجائز و حرام اور شریعت محمدیہ ﷺکی نظر میں ایک نہایت سنگین جرم ہےاور اگر شادی شدہ مرد یاعورت زنا کا ارتکاب کریں تو اس کی سنگینی اور بڑھ جاتی ہے چنانچہ اگر شرعی قانون نافذ العمل ہو تو ایسی عورت و مرد پر یہ جرم ثابت ہو جانے کے بعد رجم وسنگسار کرنے کی سزا جاری کی جاتی ہے۔ لہذا سائل کی بیوی پر لازم ہےکہ اپنے اس فعلِ بد پر بصدقِ دل توبہ و استغفار و آئندہ کے لئے اس حرام کاری سے مکمل اجتناب کرے۔
اب اگر سائل کی بیوی اس فعل کے ارتکاب پر بصدقِ دل توبہ کرے اور آئندہ اس فعل سے بچنے کی یقین دہانی بھی کرائے تو ایسی صورت میں اگر سائل کو اس کی سچائی پر یقین ہو کہ وہ مستقبل میں پھر ایسے قبیح فعل کا ارتکاب نہیں کرے گی تو سائل کے لئے اسے اپنے عقدِ نکاح میں رکھنے کی گنجائش ہے اور ایسا ہی کرنا چاہئیے اور ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت کا اہتمام بھی لازم ہے۔
کما فی مشكاة المصابيح:وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن لي امرأة لا ترد يد لامس فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" طلقها " قال: إني أحبها. قال:فأمسكها إذن،رواه أبو داود، والنسائي(باب اللعان ص:287،ط: قدیمی)۔
و فی مرقاة المفاتيح تحت الحدیث :(فأمسكها إذن) : أي: فاحفظها لئلا تفعل فاحشة، وهذا الحديث يدل على أن تطليق مثل هذه المرأة أولى، لأنه عليه الصلاة والسلام قدم الطلاق على الإمساك، فلو لم يتيسر تطليقها بأن يكون يحبها، أو يكون له منها ولد يشق مفارقة الولد الأم، أو يكون لها عليه دين لم يتيسر له قضاؤه، فحينئذ يجوز أن لا يطلقها، ولكن بشرط أن یمنعها عن الفاحشة، فإذا لم يمكنه أن يمنعها عن الفاحشة يعصي بترك تطليقها(باب اللعان ج:6 ص:479 ط: حقانیۃ)۔
و في رد المحتار تحت: (قوله: فما في الوهبانية إلخ) (إلی قوله) قال في البحر: لو تزوج بامرأة الغير عالما بذلك ودخل بها لا تجب العدة عليها حتى لا يحرم على الزوج وطؤها وبه يفتى لأنه زنى والمزني بها لا تحرم على زوجها(فصل فی المحرمات،ج:3،ص:50،ط:سعید)
وفی الدرالمختار: وفي آخر حظر المجتبى لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا(فصل فی المحرمات،ج:3،ص:50،ط:سعید)
وفی بدائع الصنائع: ومنها ولاية التأديب للزوج إذا لم تطعه فيما يلزم طاعته بأن كانت ناشزة، فله أن يؤدبها لكن على الترتيب، فيعظها أولا على الرفق واللين بأن يقول لها كوني من الصالحات القانتات الحافظات للغيب ولا تكوني من كذا وكذا، فلعل تقبل الموعظة، فتترك النشوز، فإن نجعت فيها الموعظة، ورجعت إلى الفراش وإلا هجرها(فصل ولاية التأديب للزوج إذا لم تطعه،ج:2،ص:334،ط:سعید)۔