شوہر نے بیوی کے ساتھ مار پیٹ کی اور غصے میں آ کر آٹھ مرتبہ طلاق دی، جس کا کوئی گواہ موجود نہیں ہے۔ بیوی اسی دن اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ بعد ازاں بیوی نے خلع، نان و نفقہ، حقِ مہر اور جہیز کی واپسی کے لیے عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ جب شوہر کو عدالت کا نوٹس موصول ہوا تو اس نے عدالت میں طلاق دینے کے اپنے بیان سے بھی مکر گیا۔ اس صورتِ حال میں اسلامی نقطۂ نظر کیا ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب عورت کے پاس طلاق پر گواہ نہ ہو اور مرد بھی طلاق کے الفاظ سے حلفاً انکار کرتا ہو لیکن عورت کویقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کے شوہر نے اسے ایک ہی نشست میں متعدد مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کرتے ہوئے تین طلاقیں دیدی ہیں، اور عورت اپنے دعویٰ پر حلفیہ بیان اور آخرت کی جوابد ہی کے لیے آمادہ بھی ہو تو " المرأۃ کالقاضی " کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، البتہ اب چونکہ یہ معاملہ قاضی (مسلمان جج) کی عدالت میں چلاگیا ہے اور عورت اپنے دعویٰ پر گواہ پیش کرنے سے عاجز ہے اور قاضی مدعا علیہ یعنی خاوند کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دیکر اسے خاوند کے ساتھ بھیج دے تو اس صورت میں عورت اگر چہ گنہگار نہ ہو گی ، لیکن جب اسے تین مرتبہ الفاظِ طلاق واضح طور پر سننا یاد ہوں تو حتی الامکان اسے حلالۂ شرعیہ سے قبل اپنے اوپر قدرت نہ دے ، بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
کمافی الدرالمختار: (سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها. وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف و لا بينة فالإثم عليه اھ ( باب الرجعة مطلب الإقدام على النكاح إقرار بمضي العدة ج:3،ص:420،مط: دار الفكر - بيروت)۔
وفی فتح القدير: وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ ( فصل في الطلاق قبل الدخول ج:4، ص:54،مط: دار الفكر - بيروت)۔