السلام علیکم، میرا اور میرے شوہر کا گھر والوں کی وجہ سے جھگڑا ہو گیا، اور وہ گھر چھوڑ کر جانے لگے۔ تو میں نے شرط رکھی کہ اگر آپ کو جانا ہے تو میرا نام لے کر باقاعدہ مجھے طلاق دے کر چلے جائیں۔ لیکن انہوں نے کہا: "ٹھیک ہے، جب جاؤں گا تو دے دوں گا۔" پھر انہوں نے صرف اتنا کہا: **"ٹھیک ہے، تمہیں چھوڑتا ہوں"**، اور نہ وہ گھر سے باہر گئے اور نہ ہی میرا نام لیا۔براہِ کرم بتائیں کہ اب اس صورت میں کیا حکم ہے؟ کیونکہ ہم دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونا چاہتے، اور اب ہمارے معاملات بھی ٹھیک ہو چکے ہیں۔
واضح رہے کہ" چھوڑتا ہوں" کے الفاظ ہمارے عرف میں طلاق صریح کےاستعمال ہوتے ہیں، اس لئے ان الفاط سے بلا نیت بھی ایک طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے ، لہذاسائلہ کےشوہر نے اگرمذکور الفاظ کو صرف ایک دفع بولے ہوں تو ان الفاظ کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کے بعد سائلہ کےشوہر کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ اب اگر سائلہ کےشوہرنے دورانِ عدت زبانی یا تحریری طور پر ”میں تم سے رجوع کرتا ہوں“ جیسے الفاظ کے ذریعے یا عملاً جیسے ہمبستری یا بوس و کنارسے بیوی سے رجوع کر چکا ہو ، تو شرعاً یہ رجوع درست ہو کر سائلہ اور اس کے شوہرکا نکاح بدستور برقرار ہے، اور دونوں کا حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی درست ہے، تاہم آئندہ سائلہ کے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
وفی حاشیۃ ابن العابدین : «فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي.» اھ(باب الکنایات ج:3 ص: 299 ناشر سعید )
كما في البدائع الصنائع: وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى(فصل في شرائط جواز الرجعة،ج:٣،ص:١٨٣،مط:سعيد)
وفيه ايضاََ::وأما شرائط جواز الرجعة فمنها قيام العدة، فلا تصح الرجعة بعد انقضاء العدة؛ لأن الرجعة استدامة الملك، والملك يزول بعد انقضاء العدة، فلا تتصور الاستدامة إذ الاستدامة للقائم لصيانته عن الزوال لا للمزيل كما في البيع بشرط الخيار للبائع إذا مضت مدة الخيار أنه لا يملك استيفاء الملك في المبيع بزوال ملكه بمضي المدة. (فصل في شرائط جواز الرجعة،ج:٣،ص:١٨٣،مط:سعيد)