خاوند نے بیوی سے کہا کہ اگر کسی غیر محرم سے محبت یا عاشقی معشوقی والی باتیں کیں تو تم میری طرف سے آزاد ہو۔ یہ کوئ 15 پہلے کی بات ہے اور خاوند کو یاد بھی نہیں ہے کہ اس نے ایسا کچھ کہا ہے۔ بیوی نے 4 سال پہلے کسی سے محبت والی باتیں کیں لیکن خاوند کو نہیں بتایا۔ آج خاوند سے معافی مانگی اور بات یاد دلانے کی بھی کوشش کی کہ آپ نے یہ شرط رکھی تھی اور مجھ سے چار سال پہلے یہ غلطی ہوئی ہے لیکن خاوند کو صحیح سے یا د ابھی بھی نہیں آیا۔مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ کیا طلاق واقع ہو گئی اور کتنی طلاق واقع ہو گئیں۔ اور اب اتنا ٹائم گزر گیا اب رجوع کیسے ہو گا۔رجوع کی ضرورت ہے بھی کہ نہیں۔ اوربقول بیوی 3 سے 4 سال پرانی بات ہے اور میرے بچے بھی ہیں اس واقعہ کے بعد،جواب جلد عنائت فرما کر راہنمائی فرمائیں۔
صورت مسئولہ اگر واقعۃ شوہر نے مذکور شرط سے طلاقِ معلق کی ہو، اور اس کے بعد بیوی نے غیر محرم سے باتیں بھی کرلی ہو،اگر چہ شوہر کو یاد نہ ہو، پھر بھی اس پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی تھی، لیکن اس شرط کے وقوع کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنے کی وجہ سے رجوع درست ہوکر نکاح بحال ہوچکا ہے، اور ان کا میاں بیوی کی طرح ساتھ رہنا بھی درست ہے، نئے سرے سے تجدید نکاح یا رجوع کی ضرورت نہیں، شوہر کے پاس صرف دوطلاقوں کا حق باقی ہے، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی ردالمحتار : فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا ، و ما ذاك إلا لانہ غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (باب الکنایات، ج: ٣،ص: ٢٩٩، ط: سعید)
وفي الهندية: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق اھ (الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: ١، ص: ٤٢٠، ط: ،ماجدية)
وفي الهداية: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة. قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة " وهذا عندنا الخ (باب الرجعة، ج: ٢، ص: ٢٥٤، ط: التراث)