بخدمت جناب مفتی صاحب !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ :ایک شرعی مسئلہ کا حل مطلو ب ہے ،میرے سا بقہ شوہر فواد خان نیازی کی طرف سے شادی میں بری کے طور پر گولڈ دیا گیاتھا، اب چونکہ ہماری طلاق ہوچکی ہے تو ان کا مطالبہ ہے کہ یہ گولڈ جو تقریباً تین تولہ تھا، وہ انہیں واپس کر دیا جائے ، گھر کاموجودہ سامان جو تھا ، وہ انہوں نے بچوں کو تحفے کے طور پر میرے قبضے میں دیے دیاہے ،میرا سوال یہ ہے کہ چونکہ یہ بری کے طور پر دیا گیا تھا گولڈ تو یہ اب طلاق کے بعد کس کی ملکیت شامل کیا جائے گا ،براہ مہر بانی فتوے کی روشنی میں اس کا جواب دیا جائے ۔
واضح ہو کہ شوہر کی طرف سے جو چیزیں بیوی کو فقط استعمال کے لئے دی جاتی ہیں ، اسے باقاعدہ ان کا مالک نہیں بنایا جاتا تو ایسی چیزیں شوہر کی ملکیت ہوتی ہیں اور علیحدگی کی صورت میں اسے وہ اشیاء واپس لینے کا اختیار حاصل ہوتا ہے، البتہ جو اشیاء بطور نان و نفقہ یا بطور گفٹ مالکانہ قبضہ کے ساتھ بیوی کو دی جاتی ہیں تو علیحدگی کی صورت میں شوہر کے لئے ان اشیاء کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعا درست نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں شوہر نے نکاح کے بعد بیوی کو خرچ واخراجات کے لئے جو رقم دی تھی یا جو تحفے تحائف با قاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ دیئے تھے یا بیوی کی طرف سے شوہر کو جو چیزیں بطور گفٹ مالکانہ قبضے کے ساتھ دی گئیں تو اب دونوں کے لئے ایک دوسرے سے ان چیزوں کی واپسی کا مطالبہ کر ناشر عا درست نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے، البتہ شوہر نے جو سونا دیا تھا ، اگر وہ باقاعدہ اس بات کی صراحت کے ساتھ دیا ہو کہ یہ فقط استعمال کے لئے ہے، بطور گفٹ نہیں یا شوہرکے خاندان میں مذکور چیز شوہر کی طرف سے بیوی کو محض استعمال کے لئے عاریتاً دی جاتی ہوتوطلاق کی صورت میں اب وہ ان کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہے۔(ازتبویب83843)
كما في الدر المختار: (وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها (ج:5،ص690، کتاب الھبۃ،ناشر:بیروت)
و في الفتاوى الهندية: الرجوع في الهبة مكروه في الأحوال كلها ويصح كذا في التتارخانية اھ (الباب الخامس فی الرجوع فی الھبۃ، ج:4،ص:385،ناشر: بیروت)
وفيھا أیضاً: ومنها الزوجية سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا كذا في الاختيار شرح المختار وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة وإن انقطع النكاح بينهما ولو وهب لأجنبية ثم تزوجها أو وهبت لأجنبي ثم زوجت نفسها منه كان للواهب أن يرجع في الهبة لأن النكاح بعد الهبة لا يمنع الرجوع كذافي فتاوى قاضي خان اھ (ج: 4، ص: 386 )