طلاق

میں تمہیں تالا دیتا ہوں کہنے کا حکم

فتوی نمبر :
94194
| تاریخ :
2026-04-15
معاملات / احکام طلاق / طلاق

میں تمہیں تالا دیتا ہوں کہنے کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہ ہم میاں بیوی بہت محبت سے رہتے ہیں۔ ایک دن ایسے ہی جھگڑا ہو رہا تھا، لڑائی ہوتی رہی۔ تو مجھے پتا ہے کہ وہ تھوڑی دماغ کی آؤٹ ہیں، تو غصے میں وہ ہونے لگیں۔ میں نہ غصے میں ہوتا ہوں اور نہ ہی میں کوئی ایسا عمل کرتا ہوں، نہ کوئی ایسی بات کرتا ہوں۔ تو وہ غصہ ہونے لگیں، تو انہوں نے کہا کہ ابھی چھوڑ دیں مجھے۔ تو انہوں نے صرف یہ بولا کہ طلاق۔ تو میں کافی دیر سے ان کو چپ کرا رہا تھا، لیکن وہ چپ نہیں ہوئیں۔ میرا تو دماغ نہ غصے میں تھا، نہ میری نیت تھی، نہ میں پریشر میں تھا۔ تو میں نے طلاق کی جگہ تالے کا استعمال کیا کہ: "ہاں، میں تمہارے کو تالا دیتا ہوں، ہاں، میں تمہارے کو تالا دیتا ہوں۔" وہ مجھ سے ہمیشہ بار بار ایک ہی بات کہتی ہیں کہ آپ نے تو مجھے دے دی۔ تو میں ان کو یہی کہتا ہوں کہ میں نے لفظ طلاق کا استعمال نہیں کیا، میں نے تالے کا استعمال کیا تھا۔ طلاق کا استعمال کروں تو سمجھ میں آتا ہے، جب میں کہہ رہا ہوں کہ: "ہاں، میں نے تم کو تالا دیا، تالا دیا"، تو اس میں طلاق کا لفظ تو ہے ہی نہیں، نہ میری نیت تھی، نہ میں غصے میں تھا، اور نہ میں... اللہ کا شکر، اپنے ہوش و حواس میں تھا۔ اور یہ جان بوجھ کر لفظ میں نے تالے کا استعمال کیا، صرف ان کے غصے کو روکنے کے لیے کہ وہ رک جائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر درست اور واقعہ کے مطابق ہو، اس طور پر کہ سائل نے جان بوجھ کر "طلاق" کے لفظ کے بجائے "تالا" کا لفظ استعمال کرتے ہوئے بیوی کو یہ الفاظ کہے ہوں "میں تمہیں تالا دیتا ہوں" تو اس سے سائل کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے۔ البتہ آئندہ اس طرح کے مشتبہ الفاظ استعمال کرنے اور غصہ یا مذاق میں طلاق کا ذکر زبان پر لانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی ردالمحتار: (‌صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها (ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل، وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى. (كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:247-249، ط:سعيد)
وفيه أيضاً: باب الكنايات (كنايته) عند الفقهاء (ما لم يوضع له) أي الطلاق (واحتمله) وغيره (ف) الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب...ونحو خلية برية حرام بائن)ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول لهبيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى...(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا.(‌‌كتاب الطلاق، ‌‌باب الكنايات، ج:3، ص:296-300، ط:سعيد)
وفيه أيضاً: «وركنه لفظ مخصوص».
(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس و الإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.و به ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق و لم يذكر لفظا لا صريحًا و لا كنايةً لايقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، و كذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق و إن نواه.(کتاب الطلاق ج:3، ص:230، ط :سعید)
وفی اللباب في شرح الكتاب: والكنايات ثلاثة أقسام: قسم منها يصلح جوابا ولا يصلح رداً ولا شتما، وهي ثلاثة ألفاظ: أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح رداً، وهي خمسة ألفاظ: خلية، برية، بتة، بائن، حرام، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا ورداً ولا يصلح سباً وشتما؛ وهي خمسة أيضا: اخرجي، اذهبي، اغربي، قومي، تقنعي، ومرادفها، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق بشيء منها إلا بالنية، والقول قوله في عدم النية، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع بكل لفظ لا يصلح للرد وهو القسم الأول والثاني، وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث، ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل للجواب فقط وهو القسم الأول. كما في الإيضاح.(کتاب الطلاق، ج:3، ص:44، ط؛ المکتبۃ العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
جنید الرحمن سکھروی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 94194کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 7
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات