میرا سوال یہ ہے کہ ہم میاں بیوی بہت محبت سے رہتے ہیں۔ ایک دن ایسے ہی جھگڑا ہو رہا تھا، لڑائی ہوتی رہی۔ تو مجھے پتا ہے کہ وہ تھوڑی دماغ کی آؤٹ ہیں، تو غصے میں وہ ہونے لگیں۔ میں نہ غصے میں ہوتا ہوں اور نہ ہی میں کوئی ایسا عمل کرتا ہوں، نہ کوئی ایسی بات کرتا ہوں۔ تو وہ غصہ ہونے لگیں، تو انہوں نے کہا کہ ابھی چھوڑ دیں مجھے۔ تو انہوں نے صرف یہ بولا کہ طلاق۔ تو میں کافی دیر سے ان کو چپ کرا رہا تھا، لیکن وہ چپ نہیں ہوئیں۔ میرا تو دماغ نہ غصے میں تھا، نہ میری نیت تھی، نہ میں پریشر میں تھا۔ تو میں نے طلاق کی جگہ تالے کا استعمال کیا کہ: "ہاں، میں تمہارے کو تالا دیتا ہوں، ہاں، میں تمہارے کو تالا دیتا ہوں۔" وہ مجھ سے ہمیشہ بار بار ایک ہی بات کہتی ہیں کہ آپ نے تو مجھے دے دی۔ تو میں ان کو یہی کہتا ہوں کہ میں نے لفظ طلاق کا استعمال نہیں کیا، میں نے تالے کا استعمال کیا تھا۔ طلاق کا استعمال کروں تو سمجھ میں آتا ہے، جب میں کہہ رہا ہوں کہ: "ہاں، میں نے تم کو تالا دیا، تالا دیا"، تو اس میں طلاق کا لفظ تو ہے ہی نہیں، نہ میری نیت تھی، نہ میں غصے میں تھا، اور نہ میں... اللہ کا شکر، اپنے ہوش و حواس میں تھا۔ اور یہ جان بوجھ کر لفظ میں نے تالے کا استعمال کیا، صرف ان کے غصے کو روکنے کے لیے کہ وہ رک جائیں۔
صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کے بیانات میں بظاہر اختلاف پایا جاتا ہے، نیز طلاق کے الفاظ اور ان کے استعمال کی کیفیت کے متعلق مزید وضاحت ضروری ہے؛ اس لیے تحریری بیان کی بنیاد پر حتمی جواب دینا ممکن نہیں۔
لہٰذا میاں بیوی دونوں کسی مستند قریبی دارالافتاء میں بالمشافہ حاضر ہوکر واقعے کی مکمل تفصیل اور استعمال کیے گئے الفاظ بعینہٖ بیان کریں اور وہاں موجود مفتیانِ کرام سے مسئلہ معلوم کریں۔