السلام علیکم! مفتی صاحب آپ سے یہ معلوم کرنا تھا کہ میں اور میرے خاوند آپس میں کوئی بات چیت کر رہے تھے ،تو خاوند نے کہا کہ ”میں تمہیں ابھی فارغ کرتا ہوں“ میں اس بات پر پریشان ہو کر رونے لگی، تو خاوند خود بھی گھبرا گئے، شروع میں وہ مجھے سمجھانے لگے کہ یہ میرے کہنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کوئی غلط بات ،میں تو صرف یہ کہہ رہا تھا کہ میں تمہیں اس چیز سے فارغ کرتا ہوں لیکن میرا رونا دھونا دیکھ کر وہ کافی پریشان ہو گئے اور وہ خود بھی گھبرا گئے ،جب میں نے ان سے نیت کا پوچھا تو وہ بھی بہت کنفیوز ہو گئے اور کہنے لگے کہ مجھے خود بھی یاد نہیں کہ میں نے تمہیں اصل میں بات کیا کی تھی اور میرے کہنے کا مطلب کیا تھا کیا، مفتی صاحب ایسا کرنے سے کوئی طلاق واقع ہوتی ہے؟ اور اگر ہوتی بھی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوتی ہیں؟
واضح ہو کہ ” فارغ “ کا لفظ عند القرینہ طلاقِ صریح بائن کے لئے استعمال ہوتا ہے، اس لئے مذاکرہ یا مطالبۂ طلاق کےوقت ان الفاظ کے بولنے سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ اور اس کے شوہر کےدرمیان مذکوربات چیت مذاکرہ یا مطالبۂ طلاق کی تھی اور اسی دوران شوہرنے بیوی کو مذکور الفاظ ”میں تمہیں ابھی فارغ کرتا ہوں“ ایک مرتبہ کہہ د یے تھےتو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکاہے، چنانچہ اس کے بعد بھی اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں،لیکن آئندہ کے لئے شوہرکوفقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا،اسلئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔تاہم اگر سائلہ اور اس کے شوہر کےدرمیان مذکوربات چیت مذاکرہ یا مطالبۂ طلاق کا نہ ہو،اور شوہر نے مذکور الفاظ کہتے وقت طلاق کی نیت بھی نہ کی ہو، تو ایسی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔
کمافی الدرالمختار: (فالکنایات لاتطلق بھا قضاء الأ بنیۃ او دلالۃ الحال)وھی حالۃ مذاکرة الطلاق أو الغضب (کتاب الطلاق،باب الکنایات،ج:3،ص:ِ296،ط:سعید)
وفیہ ایضا: فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا، ونحو خلية برية حرام، الخ(باب الكنايات، ج :3، ص: 301، ط: سعيد)
وفی المبسوط للسرخسی : (قال): ولو قال: أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية، فإن لم ينو الطلاق لايقع الطلاق؛ لأنه تكلم بكلام محتمل".( باب ما تقع به الفرقة مما يشبه الطلاق،ج:6،ص:72،ط: دار المعرفة - بيروت)