محترم مفتی صاحبان
مجھے طلاق کے معاملے سے متعلق چند اہم سوالات درپیش ہیں۔ حال ہی میں گھریلو جھگڑے کے دوران میرے شوہر نے مجھے تین مرتبہ واضح طور پر طلاق دی ہے۔ میری محدود معلومات کے مطابق شرعی اعتبار سے یہ طلاق واقع ہو چکی ہے، اور اس حقیقت کا ہمیں دونوں (شوہر اور مجھے) ادراک بھی ہے۔
ہمارا ایک چار سالہ بچہ ہے، اور اس کے بہتر مستقبل اور ذہنی سکون کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے باہمی رضامندی سے co-parenting کا فیصلہ کیا ہے، جسے ہم قانونی طلاق کے معاہدے میں بھی شامل کروا رہے ہیں۔
اس صورتحال کو مکمل طور پر شریعت کے مطابق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے میرے چند اہم سوالات ہیں:
(1)میں شادی سے پہلے بھی اور اب بھی گھر کی کفیل (breadwinner) ہوں، اور بچے کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہے۔ بچے کی کم عمری کے باعث شریعت کے مطابق عدت مکمل کرنا میرے لیے عملی طور پر مشکل محسوس ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے رہنمائی درکار ہے۔
شریعت کے مطابق عدت اسی گھر میں مکمل کی جاتی ہے جہاں طلاق ہوئی ہو، مگر میرے سابق شوہر کا گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے غیر ضروری میل جول کے امکانات موجود ہیں، جبکہ وہاں صرف ان کی عمر رسیدہ والدہ بھی موجود ہیں۔ ایسی صورت میں کیا میں اپنی عدت اپنے میکے یا کسی دوسرے محفوظ مقام پر مکمل کر سکتی ہوں؟
مزید برآں، بچے کی کفالت، میری یا سابق شوہر کی دوسری شادی کی صورت میں بچے کی پرورش کے حقوق، اور اگر ہم بچے کی خاطر دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو اس کے شرعی تقاضے کیا ہوں گے—ان تمام معاملات میں اسلام کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے اور کس حد تک گنجائش دیتا ہے؟
میری درخواست ہے کہ مجھے کسی مناسب وقت پر رہنمائی فراہم کی جائے تاکہ میں ذاتی طور پر آکر اپنا مسئلہ تفصیل سے بیان کر سکوں یا کسی مستند مفتی صاحب سے ملاقات کر سکوں۔ یہ میرے لیے ایک نہایت حساس اور مشکل مرحلہ ہے، جسے میں شریعت کے مطابق درست طریقے سے طے کرنا چاہتی ہوں۔
مزید یہ کہ میں اس معاملے کو فی الحال اپنے والدین کے سامنے ظاہر نہیں کر سکتی کیونکہ وہ ضعیف ہیں اور اس صدمے کو برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس طور کہ سائلہ کو اس کے شوہر نے صریح الفاظ میں تین طلاقیں دیدی ہوں تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا،جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحد گی اور عدتِ طلاق گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوق زوجیت ادا کرے ، اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقیق کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزرنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تا کہ زوج اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے، البتہ بغیر شرط کے بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
جبکہ عدت کے ایام سائلہ کے ذمہ شوہر کے گھر ہی گزارنے لازم ہیں،تاہم اگر شوہر کا گھر چھوٹا ہونے اور وہاں عدت گزارنے میں غیر ضروری میل جول اور اختلاط کی وجہ سے شریعت کے حدود کی رعایت رکھنا مشکل ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے لئے اپنے میکے عدت گزارنے کی بھی گنجائش ہے۔
بچے کی پرورش کے متعلق حکم ہے کہ بچہ سات سال کی عمر تک سائلہ کی پرورش میں ہی ہوگا،بشرطیہ کہ اس دوران سائلہ بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرےیا اس حق کو ساقط کرنے والا کوئی اور شرعی عذر پایا جائے،اور دوران پرورش بچے کی کفالت پر آنےوالے تمام ضروری اخراجات بچے کے والد (سائلہ کےسابق شوہر) کے ذمہ لازم ہونگے۔
كما قال الله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ } [البقرة:٢٣٠]
وفي تفسير المظهرى: وقوله تعالى فَإِنْ طَلَّقَها فَلا تَحِلُّ له من بعد لان قوله تعالى الطلاق على هذا التأويل يشتمل الطلقات الثلاث أيضا وعلى كلا التأويلين يظهران جمع الطلقتين او ثلاث تطليقات بلفظ واحد أو بألفاظ مختلفة فى طهر واحدحرام بدعة مؤثم خلافا للشافعى فانه يقول لا بأس به- لكنهم أجمعوا على انه من قال لامراته أنت طالق ثلاثا يقع ثلاثا بالإجماع اھ(سورة البقرة:٢٣٠،ج:١،ص:٣٣٤،ط:التراث)
و فی الہندیہ:رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
وفيها ايضاََ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح،ج:١،ص:٣٥٦،مط:ماجديه)
کمافی الدرالمختار:(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ اھ(3/536)۔
وفی البحر الرائق: (قوله وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن تخرج أو ينهدم) أي معتدة الطلاق والموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق وفی الدر : (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا.وأقول: ينبغي أن يحكم سنها ويعمل بالغالب. وعند مالك، حتى يحتلم الغلام، وتتزوج الصغيرة ويدخل بها الزوج عيني (وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.(3/566)۔