مجھے معلوم یہ کرنا ہے کہ منڈی میں بہت سے جانوروں کے سینگ کٹے ہوتے ہیں اور بیوپاری کہتا ہے کہ یہ نسل ہی بغیر سینگ کی ہے لہذا رہنمائی فرمائی جائے کہ اس طرح کے جانور کی قربانی جائز ہے یا نہیں۔
علماء اکرام سے گزارش ہے کہ فتوی جاری فرمائیں تاکہ ہم قربانی کو صحیح طریقے سے ادا کر سکیں۔
ایسے جانور جس کے سینگ پیدائشی طور پر نا ہوں اس کی قربانی شرعا جائز اور درست ہے ۔
في البحر في شرح كنزالدقائق لابن نجيم: قال رحمه الله ( ويضحي بالجماء ) التي لا قرن لها يعني خلقة لأن القرن لا يتعلق به مقصود وكذا مكسورة القرن بل أولى اه (كتاب الأضحية 8/200)
و في حاشية ابن عابدين مع الدرالمختار: قوله ( ويضحي بالجماء ) هي التي لا قرن لها خلقة وكذا العظماء التي ذهب بعض قرنها بالكسر أو غيره فإن بلغ الكسر إلى المخ لم يجز
قهستاني اه (6/232)