قربانی کے لیے اگر ہم اجتماعی قربانی میں گائے کے دو حصے لیتے ہیں، لیکن ہمیں باقی شرکاء کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا،اور ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ افراد سود (ربا) سے متعلق آمدنی رکھتے ہوں،تو کیا ایسی قربانی میں شامل ہونا جائز ہے؟ اس صورت میں ہر شریک کے ذرائع آمدنی کی تصدیق کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ کیا ایسی قربانی قبول ہوگی؟
مزید یہ کہ اجتماعی قربانی میں جانور آپ کے نام پر ذبح کیا جاتا ہے، لیکن جب گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تو ضروری نہیں کہ آپ کو اسی جانور کا گوشت ملے۔ عام طور پر تمام گوشت کو ملا کر برابر حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کیا یہ طریقہ بھی قربانی میں جائز ہے؟
سائل اگر کسی جگہ اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالتا ہو اور جس جانور میں سائل کا حصہ ہو اس میں کسی حرام آمدنی والے شخص کی شرکت سے متعلق یقین یا غالب گمان نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل ودیگر شرکاء کی قربانی درست ہوگی،بلاوجہ شکوک و شبہات میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہےاور نہ ہی کسی مسلمان کے بارے میں بغیر کسی ٹھوس قرینے اور دلیل کے اس طرح کا گمان رکھنا درست ہے ۔
جبکہ اجتماعی قربانی کا انتظام کرنے والوں کا تمام جانوروں کا گوشت سری پائے اور کلیجی سمیت تمام اشیاء کو یکجا کرکےبرابر طور پر حصہ داروں میں تقسیم کرنےکے طریقہ کار سے متعلق تمام شرکا ء کوواضح طور پر معلوم ہواور وہ اس طرح تقسیم پر رضامند ہوں تو مذکور طریقہ پر گوشت تقسیم کرنا شرعا درست ہوگا،ورنہ نہیں۔
کما فی الھندیۃ:وَإِنْ كَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ صَبِيًّا أَوْ كَانَ شَرِيكُ السَّبْعِ مَنْ يُرِيدُ اللَّحْمَ أَوْ كَانَ نَصْرَانِيًّا وَنَحْوَ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ لِلْآخَرَيْنِ أَيْضًا كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ.وَلَوْ كَانَ أَحَدُ الشُّرَكَاءِ ذِمِّيًّا كِتَابِيًّا أَوْ غَيْرَ كِتَابِيٍّ وَهُوَ يُرِيدُ اللَّحْمَ أَوْ يُرِيدُ الْقُرْبَةَ فِي دِينِهِ لَمْ يُجْزِئْهُمْ عِنْدَنَا؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ لَا يَتَحَقَّقُ مِنْهُ الْقُرْبَةُ، فَكَانَتْ نِيَّتُهُ مُلْحَقَةً بِالْعَدَمِ، فَكَأَنْ يُرِيدَ اللَّحْمَ وَالْمُسْلِمُ لَوْ أَرَادَ اللَّحْمَ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا، وَكَذَلِكَ إذَا كَانَ أَحَدُهُمْ عَبْدًا أَوْ مُدَبَّرًا وَيُرِيدُ أُضْحِيَّةً، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ (کتاب الاضحیۃ:ج:5،ص:304،ط:دارالفکر)
و فیھا : وَلَوْ اشْتَرَى عَشَرَةٌ عَشْرَ أَغْنَامٍ بَيْنَهُمْ فَضَحَّى كُلُّ وَاحِدٍ وَاحِدَةً جَازَ، وَيُقَسَّمُ اللَّحْمُ بَيْنَهُمْ بِالْوَزْنِ، وَإِنْ اقْتَسَمُوا مُجَازَفَةً يَجُوزُ إذَا كَانَ أَخَذَ كُلُّ وَاحِدٍ شَيْئًا مِنْ الْأَكَارِعِ أَوْ الرَّأْسِ أَوْ الْجِلْدِ، وَكَذَا لَوْ اخْتَلَطَتْ الْغَنَمُ فَضَحَّى كُلُّ وَاحِدٍ وَاحِدَةً وَرَضُوا بِذَلِكَ جَازَ، كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ.(کتاب الاضحیۃ:ج:5،ص:305،ط:دارالفکر)
و فی المحیط البرھانی: في أضاحي الزعفراني: اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم أن يضحوا بها بينهم، ولم يسم لكل واحد منهم شاة بعينها فضحوا بها؛ كذلك فالقياس: أن لا يجوز.وفي الاستحسان: يجوز؛ فقوله اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم؛ يحتمل شراء كل شاة بينهم، ويحتمل شراء سبع شياه على أن يكون (١٥٤أ٢) لكل واحد منهم شاة، ولكن لا يعينها، فإن كان المراد هو الثاني، فما ذكر من الجواب باتفاق الروايات؛ لأن كل واحد منهم يصير مضحياً بشاة كاملة،(کتاب الاضحیۃ: ج:6،ص:100،ط:مکتب دارالکتب علمیۃ بیروت)