کیا فرماتے ہیں علماءکرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہم میاں بیوی کا نکاح آج سے تقریباً چار سال قبل ہو گیا تھا ،اس نکاح سے ہمارے دو بچے بھی ہیں، گھر میں مختلف مواقع پر لڑائیاں ہوتی رہی ،لیکن ابھی گزشتہ سات اپریل کو گھر میں لڑائی کے دوران میرے شوہر نے مجھے کہا :"جا تجھے میں نے ایک طلاق دی " ،اس کے بعد وہ چلے گئے ،میں نے ان کی بہن کو فون کیا ،وہ پھر آئے اور مجھے مارا اور کہا" طلاق، طلاق، طلاق "شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے صرف اتنا کہا تھا کہ" طلاق ،طلاق ،طلاق ،جاؤ "یہ بھی میں نے بیوی کے مطالبے پر کہا کہ اس نے مجھے کہا کہ مجھے چھوڑ دو تو میں نے یہ الفاظ بول دیے ،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائلہ کے شوہر نے پہلی مرتبہ سائلہ کو صریح الفاظ میں مذکور جملہ "جاتجھے میں نے ایک طلاق دی "کہا، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی،اس کے کچھ ہی لمحات بعد جب دوبارہ اس نے صریح الفاظ کے ساتھ سائلہ کومخاطب کرکے تین مرتبہ کہا"طلاق، طلاق، طلاق ،جاؤ"تواس سےسائلہ پرپہلی ایک طلاق کےساتھ مزیددوطلاقیں ملکرمجموعی طورپر تینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب نہ رجوع ہوسکتاہے ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں اورمیاں بیوی والےتعلقات ہرگزقائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ سائلہ عدت مکمل کرنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما في تنویرالابصار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو عبداً أو مكرها أو هازلا) لايقصد حقيقة كلامه_الخ(ج:3، ص:238 ،235، مط: سعيد)
وفي الهداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى: "فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجاً غيره" .(ج:2،باب الرجعة، ص:399، مط:شركت علمية ملتان)
وفي الفتاویٰ الھندیۃ: وإن قال أنت الطلاق أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا فإن لم تكن له نية أو نوى واحدة أو ثنتين فهي واحدة رجعية وإن نوى ثلاثا فثلاث ولو قال أنت طالق يقع الطلاق به ولا يحتاج فيه إلى النية ويكون رجعيا وتصح نية الثلاث ولا تصح نية الثنتين فيها كذا في الهداية.(ج: 1، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ص: 355، مط: ماجدیۃ)