السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
محترم علماءِ کرام سے ایک شرعی رہنمائی مطلوب ہے:
کیا میں اپنے مرحوم والد صاحب کی طرف سے قربانی کر سکتا ہوں؟
اگر اس کی اجازت ہے تو براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرما دیں:
1. مرحوم کی طرف سے قربانی کرنے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
2. نیت کس طرح کی جائے؟
3. کیا اپنی قربانی کے ساتھ مرحوم والد کی طرف سے الگ جانور ضروری ہے یا ایک بڑے جانور میں حصہ رکھا جا سکتا ہے؟
4. قربانی کے گوشت کی تقسیم کا کیا طریقہ ہوگا؟
5. کیا مرحوم کی طرف سے قربانی کا گوشت خود بھی کھایا جا سکتا ہے یا مکمل صدقہ کرنا ضروری ہے؟
جزاکم اللہ خیراً
میت کی طرف سے قربانی کرنا شرعاً جائز ہے اور اس کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اور اگر کوئی شخص اپنے مرحوم والد کی طرف سے قربانی کرے تو یہ اس کی طرف سے نفلی قربانی شمار ہوتی ہے اور اس کا ثواب مرحوم کو پہنچتا ہے، اس کے لیے دل میں صرف یہ نیت کافی ہے کہ یہ قربانی مرحوم والد کے ایصالِ ثواب کے لیے ہے، زبان سے کہنا ضروری نہیں؛ نیز اس صورت میں الگ جانور ضروری نہیں بلکہ اپنی واجب قربانی کے ساتھ گائے، بیل یا اونٹ وغیرہ میں حصہ رکھنا بھی جائز ہے،جبکہ اس قربانی کے گوشت میں وسعت ہے کہ خود بھی کھایا جا سکتا ہے، رشتہ داروں کو بھی دیا جا سکتا ہے اور فقراء پر بھی صدقہ کیا جا سکتا ہے، لہٰذا والد مرحوم کی طرف سے کی جانے والی نفلی قربانی کا سارا گوشت صدقہ کرنا لازم نہیں۔
عن علي رضي اللّٰہ عنہ قال: أمرني رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن أضحي عنہ، فأنا أضحي عنہ أبدًا۔ (المسند للإمام أحمد ۱؍۱۰۷، إعلاء السنن / باب التضحیۃ عن المیت ۱۷؍۲۹۶ رقم: ۵۶۰۲ دار الکتب العلمیۃ بیروت، ۱۷؍۲۷۲ کراچی)
وفی ردالمحتار: من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح. قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لا يأكل منها وإلا يأكل بزازية.(كتاب الأضحية، ج:6، ص:326، ط:دار الفكر-بيروت)
و فيه أيضاً: (قوله: وعن ميت) أي لو ضحى عن ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت، ولهذا لو كان على الذابح واحدة سقطت عنه أضحيته كما في الأجناس. قال الشرنبلالي: لكن في سقوط الأضحية عنه تأمل اهـ. أقول: صرح في فتح القدير في الحج عن الغير بلا أمر أنه يقع عن الفاعل فيسقط به الفرض عنه وللآخر الثواب فراجعه.(كتاب الأضحية، ج:6، ص:335، ط:دار الفكر-بيروت)