سال 2026 میں قربانی کے لیے کتنے پیسے ہونے چاہئیں؟
قربانی ہر اُس شخص پر واجب ہے جس پر صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے۔ یعنی جس کی ملکیت میں قربانی کے دنوں میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اتنی مالیت کی نقد رقم یا مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد سامان موجود ہو، نیز اگر یہ چیزیں الگ الگ نصاب کے برابر نہ ہوں، لیکن سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان(جس کی عام طور پر سال بھر ضرورت پیش نہیں آتی)، ان سب کی مجموعی مالیت چاندی کے نصاب، یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہوجائے، تو ایسے شخص پر شرعاً قربانی واجب ہوگی،جبکہ چاندی کی قیمتوں میں وقتاً فوقتاً اتار چڑھاؤ رہتاہے، اس لئے پیسوں میں نصاب کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں کی جاسکتی،تاہم عید کے ایام میں چاندی کی قیمت معلوم کرکے پیسوں میں نصاب کی مالیت معلوم کی جاسکتی ہے۔
الفتاوى الهندية:
(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة، وأما البلوغ والعقل فليسا بشرط حتى لو كان للصغير مال يضحي عنه أبوه أو وصيه من ماله۔ج:5،ص292 - - الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها -