کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ زید اللہ نے گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی مسماة بشری کو دو مرتبہ "تہ پہ ما طلاقہ ئے ، طلاقہ ئے " اس کے بعد میں تیسری مرتبہ بولنے ہی والا تھا کہ میرے بھائی ذاکراللہ نے مجھے مارا اور مجھے باہر نکالا،میں تیسری مرتبہ نہیں بول سکا۔بھائی ذاکر اللہ کو بھی بلایا ،وہ بھی اس بیان کی تصدیق کرتا ہے اور بیوی مسماة بشریٰ کا کہنا ہے کہ میں نے صرف ایک مرتبہ سنا پھر مجھے کچھ پتہ نہیں چلا، معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاق واقع ہوئی اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
المستفتی : زیداللہ
شفیق کالونی کراچی
سائل کابیان اگر واقعۃً درست اور حقیقت پرمبنی ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیاگیاہوبایں طورکہ سائل نےاپنی بیوی کو دوران بحث وتکرارمذکورصریح الفاظ ”تہ پہ ما طلاقہ ئے ، طلاقہ ئے“ صرف دو بار ہی کہہ دیے ہوں اورتیسری بارکہنے سے پہلے سائل کے بھائی (ذاکر اللہ )کا اسے روکنے کی وجہ سے وہ تیسری بارطلاق کےالفاظ ادانہ کرسکا ہو توایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ان الفاظ کے ذریعے دو طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہیں، جس کے بعد دورانِ عدت سائل کو رجوع کا حق حاصل ہے، چنانچہ اب اگر سائل منہ زبانی مثلا ًمیں رجوع کرتا ہوں یا عملا ًبیوی سے میاں بیوی والا تعلق قائم کر کے رجوع کر لیتا ہے تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہو کر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا ،البتہ اگر وہ دوران عدت رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے کے بعد یہ طلاق، طلاقِ بائن ہو کر میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہو جائے گا ،جس کے بعد دونوں کو ساتھ رہنے کیلئے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا ،لیکن بہر دوصورت شوہر کو آئندہ کیلئے ایک طلاق کا اختیار ہوگا ، اس لئےآئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے۔
کمافی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین، صریح و کنایۃ، فالصریح قولہ: أنت طالق و مطلقۃ و طلّقتك فھٰذا یقع بہ الطلاق الرجعی، الخ (باب إیقاع الطلاق، ج: 2، ص: 61، ط: مکتبہ انعامیۃ)-
وفی الدرالمختار: (واعتبار عدده بالنساء) وعند الشافعي بالرجال (فطلاق حرة ثلاث، وطلاق أمة ثنتان) مطلقا.( مطلب اعتبار عدد الطلاق بالنساء ج:3،ص:246 ، دار الفكر - بيروت)
وفی البدائع: فإن طلقها و لم يراجعها بل تركها حتى إنقضت عدتها بانت، و هذا عندنا، الخ (كتاب الطلاق، فصل فی بيان حكم الطلاق، ج: 4، ص: 469، مط: دار الحدیث قاھرۃ)-
وفی الھدایۃ: و إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها فی العدة و بعد إنقضائها، الخ (کتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، ج: 2، ص: 92، مط: مکتبۃ انعامیۃ)-