السلام و علیکم جناب عرض خدمت ہے کہ کیا میں صرف اپنی والدہ کے نام کی قربانی رکھ سکتا ہو یا پھر والد کی قربانی رکھنا ضروری ہے
واضح ہوکہ اپنی طرف سےکی جانے والی قربانی کے علاوہ اپنےوالدین ، یا کسی بھی شخص (خواہ زندہ ہویاوفات پاچکاہو)کی طرف سے قربانی کی جاسکتی ہے۔لہذا اگرسائل کے والدین میں سے دونوں یاکوئی ایک حیات ہواوروہ صاحبِ نصاب بھی ہوں تو ان پر اپنی مستقل قربانی واجب ہوگی،تاہم اگرسائل ان کی اجازت سے ان کی طرف سے واجب قربانی کرلیتاہے تواس کی وجہ سے ان کی قربانی اداہوجائیگی ۔اوراگروہ حیات نہ ہوں اورانہوں نے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی وصیت بھی نہ کی ہوتوایسی صورت میں دونوں یاکسی ایک کی طرف سےقربانی کرنالازم تونہیں لیکن اگرسائل ان کے ایصال ثواب کی خاطر دونوں کی طرف سے الگ الگ یاایک نفلی قربانی کرکے اس کاثواب دونوں کوبخش دے تویہ بھی جائزاوردرست ہےاوراس کاثواب سائل کے والدین کومرحومین کوپہنچ جائیگا۔ان شاءاللہ
كما في حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» :من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح.»(6/ 326)
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» : (وجه) الاستحسان أن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته - وإن كان منهم من قد مات قبل أن يذبح - فدل أن الميت يجوز أن يتقرب عنه فإذا ذبح عنه صار نصيبه للقربة فلا يمنع جواز ذبح الباقين.»(5/ 72)