میری بیوی کو شادی پر سونا تحفہ ملا تھا 4 تولہ جسکی وہ مالک ہے، کیا اس پر قربانی کا نصاب لاگو ہے، جبکہ فی زمانہ چاندی کے نصاب سے زیادہ ہے؟
ہمارے پاس بونڈ کی شکل میں 2 لاکھ موجود ہیں جو میری ملکیت میں ہیں ۔کیا یہ سب ایک ہی گنا جائیگا یا الگ اور اس سب میں قربانی کا کیا حکم ہے؟
سائل کی بیوی کی ملکیت میں مذکور چار تولہ سونے کے علاوہ اگر چاندی، نقدی ، مال تجارت یا حاجات اصلیہ سے زائد سامان میں سے تھوڑا بہت بھی موجود ہو تو چونکہ ایسی صورت میں مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) سے زیادہ بنتی ہے، لہذا اس صورت میں سائل کی بیوی پر قربانی لازم ہوگی،ورنہ نہیں۔
جبکہ سائل کی ملکیت میں مذکور دو لاکھ بونڈ کے علاوہ سونا، چاندی، مال تجارت، نقدی یا حاجات اصلیہ سے زائد سامان یا ان سب کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر نہ ہو، بلکہ صرف یہی رقم ہو تو سائل پر قربانی لازم نہیں۔
ففي الفتاوى الهندية: «(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة». (كتاب الأضحية الباب الأول في تفسيرها وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها وفي بيان من تجب عليه ومن لا تجب 5/ 292)
وفيه أيضا: «وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب هكذا في فتاوى قاضي خان.» (كتاب الزكاة الباب الثامن في صدقة الفطر 1/ 191)