کیا بی سی کے پیسوں سے قربانی دی جا سکتی ہے یا دینا واجب ہے
سورۃ مسئلہ یہ ہے کہ بندہ جو ہے اس نے ایک جگہ بی سی لگائی جس بی سی کی کل رقم تین لاکھ ہے اور اس بندے کا جو نمبر ہے وہ 18 نمبر ہے اور کل ٹوٹل بی سی جو ہے وہ 20 بندوں کی ہے اور اس میں سے 15 بندوں کی بی سی اٹھ چکی ہے تو اب اس کے اوپر کیا حکم ہوگا
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی اب تک بی،سی میں جمع شدہ رقم اورملکیت میں موجوددیگرزائدازضرورت مال ومتاع کے ساتھ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت )پوراکیاجاسکتاہوتواس پر قربانی واجب ہوگی ورنہ نہیں ۔
کمافی فتاوی بزازیہ برہامش ہندیہ : له دین حال علی مقر ملئ ولیس عنده ما یشتریها به لا یلزمه الاستقراض ولا قیمة الأضحیة إذا وصل الدین إليه ولکن یلزمه أن یسأل منه ثمن الأضحيةإذا غلب علی ظنه أنه یعطیه، له مال کثیر غائب في ید مضاربه أو شریکه ومعه من الحجرین أو متاع البیت ما یشتری به الأضحیة تلزم" (6/ 287 )