جناب اعلی ،السلام وعلیکم،محترم میرا سوال یہ ہے کہ آج کل ہارمونل خرابی کی وجہ سے لڑکیوں کے چہرے پر بال آجاتے ہیں،علاج سے کمی ہو جاتی ہے، مگر ختم نہیں ہوتے،اس صورت میں جن پر قربانی واجب ہو وہ کیا کریں ؟ اگر صاف کریں تو منع ہے اور نا کریں تو شرمندگی ہوتی ہے۔ ہماری ایک عزیزہ نے علاج کروایا مگر کچھ نا کچھ رہ گئے ،کیا ان کو وہ قربانی سے پہلے نکال سکتی ہیں؟مہربانی سے جلد جواب دیں۔
وا ضح ہوکہ احادیث مبارکہ میں ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے قربانی کرنے تک قربانی کرنے والوں کو بال اور ناخن نہ کاٹنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ فرض یا واجب نہیں ہے بلکہ ایک مستحب عمل ہے،جس پر عمل کرنے والا ثواب کا مستحق اور نہ کرنے والے کو کسی قسم کا گناہ نہیں ہوتا ،لہذا اگر سائلہ کی مذکور عزیزہ خاتون اگر چہرہ کے بال نکال لیتی ہے تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں اور ایسا کرنے سے ان کی قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑےگا۔
کما فی مسند لاحمد: عن أم سلمة، قالت: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "من رأى منكم هلال ذي الحجة فأراد أن يضحي، فلا يقربن له شعرا ولا ظفرا(ابواب الاضاحی،ج:4،ص:324،ط:دار الرسالۃ العالمیۃ)
و فی اعلاء السنن: عن أم سلمة - رضی اللہ عنہا - قالت: قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم -: إذا دخل العشر، وأراد بعضکم أن یضحی فلا یمس من شعرہ وبشرہ شیئا۔قال الملا علی القاری : المستحب لمن قصد أن یضحی عند مالک والشافعی أن لا یحلق شعرہ، ولا یقلم ظفرہ حتی یضحی، فإن فعل کان مکروہا. وقال أبو حنیفة: ہو مباح، ولا یکرہ، ولا یستحب. وقال أحمد: بتحریمہ کذا فی رحمة الأمة فی اختلاف الأئمة. وظاہر کلام شراح الحدیث من الحنفیة أنہ یستحب عند أبی حنیفة فمعنی قولہ: رخص. أن النہی للتنزیہ فخلافہ خلاف الأولی، ولا کراہة فیہ خلافا للشافعی۔( مرقاة المفاتیح مع مشکاة المصابیح ، رقم ":۱۴۵۹)قال العثمانی التھانوی: نہی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من أراد التضحیة عن قلم الأظفار وقص الشعر فی العشر الأول، والنہی محمول عندنا علی خلاف الأولی لما روی عن عائشة رضی اللّٰہ عنہا أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یبعث بہدیة، ولا یحرم علیہ شیء أحلہ اللّٰہ لہ حتی ینحر ہدیہ(کتاب التضحیة، باب ما یندب للمضحی فی عشر ذی الحجة،ج:۱۷ص:۲۶۸۲۶۴،ط:اشرفیہ،دیوبند)
و فی الشامیۃ تحت: ( والنامصة إلخ ) ذكره في الاختيار أيضاً، وفي المغرب: النمص نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه ففي تحريم إزالته بعد؛ لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه؛ لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم: إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب (کتاب الحظر و الاباحۃ،ج:6،ص373،ط:ایچ ایم سعید)