السلام وعلیکم
میں نے یہ پوچھناھے میری بہن نے قربانی کے حصے بھیجے ہیں امریکہ سے۔پاکستان اور امریکہ میں ایک ہی دن عید ہے قربانی عید کے پہلے دن ادا کی جائے گی جبکہ امریکہ اور پاکستان میں ٹایم کا فرق کوئی بارہ گھنٹے کاہے۔جب یہاں عید ھو گی تو وہاں چاند رات ہو گی تو اس صورت میں یہ قربانی ہو جائے گی ؟
واضح ہو کہ اگر آدمی خود کسی اور ملک میں ہو اور قربانی کے لئے کسی کو دوسرے ملک میں وکیل بنائے تو اس صورت میں قربانی کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ قربانی دونوں ممالک کے مشترکہ ایام میں ہو، یعنی جس دن قربانی کی جائے وہ دن دونوں ممالک میں قربانی کا مشترکہ دن ہو، ورنہ قربانی شرعاً درست نہیں ہوگی ، لہذا صورتِ مسئولہ میں پاکستان میں ایسے وقت میں قربانی کرناجس وقت امریکہ میں قربانی کاوقت ابھی داخل نہ ہواہو،درست نہ ہوگا ، بلکہ جب دونوں ممالک میں قربانی کاوقت ہواس وقت قربانی کرنا لازم ہوگا۔(ازتبویب بتغیریسیر73727)
كما في العناية شرح الهداية : لأن وقت الأضحية يدخل بطلوع الفجر من يوم النحر على ما ذكر في الكتاب وهو اليوم العاشر، ويفوت بغروب الشمس من اليوم الثاني عشر، فلا يجوز في ليلة النحر ألبتة لوقوعها قبل وقتها ولا في ليلة التشريق المحض لخروجه الخ ( كتاب الأضحية، ج 9، ص 513، ط : دار الفكر، بيروت)-
و في بدائع الصنائع : وإن كان الرجل في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة - وقال الحسن بن زياد: انتظرت الصلاتين جميعا وإن شكوا في وقت صلاة المصر الآخر انتظرت به الزوال فعنده لا يذبحون عنه حتى يصلوا في المصرين جميعا، وإن وقع لهم الشك في وقت صلاة المصر الآخر لم يذبحوا حتى تزول الشمس فإذا زالت ذبحوا عنه. (وجه) قول الحسن أن فيما قلنا اعتبار الحالين حال الذبح وحال المذبوح عنه فكان أولى ولأبي يوسف ومحمد رحمهما الله أن القربة في الذبح، والقربات المؤقتة يعتبر وقتها في حق فاعلها لا في حق المفعول عنه، ويجوز الذبح في أيام النحر نهرها ولياليها؛ وهما ليلتان: ليلة اليوم الثاني وهي ليلة الحادي عشر، وليلة اليوم الثالث وهي ليلة الثاني عشر، ولا يدخل فيها ليلة الأضحى وهي ليلة العاشر من ذي الحجة لقول جماعة من الصحابة رضي الله عنهم: أيام النحر ثلاثة الخ ( كتاب التضحية، ج 5، ص 74، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-