مفتی صاحب سے فتویٰ چاہیے میں بحثیت پاکستانی آئی ایم ایف کا 2لاکھ 50 یا 2 لاکھ70 ہزار کا مقروض ہوں
اور ہمارے گھر میں 7 افراد ہیں۔۔۔
اس طرح صرف میرے گھر کے سات افراد آئی ایم ایف کے 18 سے 19 لاکھ کے قرضدار ہیں
*اب پوچھنا یہ ہے کہ۔۔*
کیا ہم پر قربانی فرض ہے اس طرح پورے ملک کا ہر فرد آئی ایم ایف کا قرضدار ہے کیا ان پر قربانی فرض ہے ؟
نوٹ:- ہم کیسے قرض دار ہوئے کیوں ہوئے قرضہ کس نے لیا کس نے کہاں استعمال کیا ہمیں پتہ بھی نہیں
اس دیرینہ مسئلے کا کوئی حل نکال دیں
اور ہاں ایک سوال یہ بھی پوچھنا ہے
کہ اگر اس قرض کے ساتھ بندہ مرجائے تو اس ان دیکھے قرض کی مجھ سے پوچھ گچھ تو نہیں ہوگی۔۔؟
کیونکہ حکم ہے کہ مرنے سے پہلے اپنے قرض اتار دو اگر ہو سکے تو۔
اور ساتھ میں یہ بھی کہ
ہم اس وقت غلام رعایا ہیں کیا غلاموں پر بھی قربانی فرض ہے۔
واضح ہو کہ کسی ملک کی حکومت کی طرف سے لیا گیا بیرونی قرض ہر شہری کے ذمہ ذاتی طورپرلازم اور شرعی قرض شمار نہیں ہوتا، بلکہ ملکی سطح پرنظم ونسق سنبھالنے اورنمائندگی کرنے والے افرادہی عالمی قوانین کے تحت اس کی ادائیگی کے پابندہوتے ہیں ۔ لہٰذا آئی ایم ایف یا دیگر اداروں سے حکومتِ پاکستان کے لیے لیا گیا قرض شرعاً ہر شہری کے ذمے انفرادی قرض نہیں ہوگاکہ اس کی وجہ سے اس سے احکامِ زکوٰ یاقربانی ساقط ہوسکیں یااس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اس کی جوابدہی اس پرلازم ہو۔لہذااس ملکی قرض کے باوجودبھی اگر کسی شخص کے پاس اپنی ضروریاتِ اصلیہ سے زائد اتنا مال موجود ہو جو نصابِ قربانی (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت )کے برابر ہو، تو اس پر قربانی واجب ہوگی، اوراس میں کوتاہی کرناعنداللہ قابل مواخذہ ہوگا۔
جبکہ معاشی یاسیاسی دباؤکی وجہ سے کسی آزادشہری پرغلامی یاقیدی ہونےکا اطلاق نہیں کیاجاسکتااورنہ ہی اس کی وجہ سے احکام شرعیہ میں تخفیف کی جاسکتی ہے ،اس لیے اس طرح کے حیلوں اوربہانوں سے احکام زکوٰۃ ،قربانی یادیگراعمال میں کوتاہی کرناجائزنہیں ،اس اجتناب لازم ہے۔(ازتبویب 95516)