اسلام علیکم۔
ہماری گلی میں دو شخص پیسے ملا کر قربانی کا جانور لاتے ہیں اور لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کسی کو حصہ چاہے تو اس کا نام لکھ لیتے ہیں پھر قربانی کے بعد حساب کرتے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ا جو دو بندے پیسے ملا کے جانور لا رہے ہیں ان کی نیت اس طرح ہے کہ
جانور خرید کے لانے بعد کوئی اور لوگ شامل ہوگئے تو 7 حصہ میں قربانی کریں گے اور اگر کوئی بھی شامل نہیں ہوا تو 2 حصہ میں گوشت تقسیم کر کے پیسے کا حساب کر لیں گے۔
تو اس طرح ان کے ساتھ قربانی کرنا صحیح ہے یا نہیں۔ جانور خریدنے کے بعد ایک دو یا تین اور لوگ شامل ہونا چاہیں تو یہ ان کوبھی شامل کر لیتے ہیں اگر کوئی بھی شامل نہیں ہونا چاہتا تو دو ہوں یا چار اسی میں قربانی کرتے ہیں ۔
گائے یا بڑے جانور کی قربانی میں ایک سے سات افراد تک شریک ہوسکتے ہیں، اور شروع ہی سے سات افراد کا ہونا ضروری نہیں۔ لہذا اگر دو اشخاص نے جانور اس نیت سے خریدا کہ بعد میں مزید شرکاء مل گئے تو انہیں بھی شامل کرلیں گے، اور اگر کوئی شریک نہ ملا تو خود ہی قربانی کرلیں گے، تو اس طرح جانور خریدنا اور بعد میں دیگر افراد کو اس میں شریک کرنا جائز اور درست ہے، اور ان دونوں کی یا ان کے ساتھ شریک ہونے والے افراد کی قربانی بلاشبہ ادا ہوجائے گی۔
البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ جن افراد کو جانور کی خریداری کے بعد اور ذبح سے قبل شریک کیا جائے، ان تمام شرکاء کی نیت قربت و عبادت کی ہو، خواہ قربانی ہو، صدقہ نافلہ ہو یا عقیقہ وغیرہ۔ نیز کسی شریک کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو، اور کسی شریک کی اجازت و رضامندی کے بغیر اس پر ساتویں حصے سے زائد رقم کا بوجھ بھی نہ ڈالا جائے۔
كمافي الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية : ولو اشترى بقرة يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستة يكره ويجزيهم؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكما، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلا يكره، وإن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن(5/ 304)