کیا فرماتے ہیں علماءکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عید الاضحی پر قربانی کے لیے دیہات میں پانچ حصوں والا ایک بیل خریدا گیا جس کی قیمت تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپیہ تھی۔ قریب بوقت ذبح وہ بیل رسی چھڑا کر بھاگ گیا۔دوسرے روز نظر تو آیا، مگر پکڑا نہ جا سکا، اب تیسرے روز ایک سات حصوں والا دوسرا بیل جس کی قیمت تقریبا اڑھائی لاکھ روپے ہے، خرید کر قربان کر دیا ہے۔ اور قربانی کے بعد سابقہ گمشدہ بیل بھی پکڑ میں آ چکا ہے۔
اس بیل کے متعلق اب کیا حکم ہے کہ اسے صدقہ کیا جائے یا اگلی عید قربان کے لیے رکھا جائے یا پھر کل اختیار حاصل ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکورہ گمشدہ جانور میں تمام حصہ دار اگر مالدار ہوں، ان میں کوئی غریب نہ ہو اور دوسرا جانور خرید کر اس کی قربانی کرلی ہو تو ایسی صورت میں اب اس پہلے جانور کی قربانی شرعاً لازم نہیں، بلکہ شرکاء کو اختیار ہے کہ اس کو اگلے سال کی قربانی کے لیے رکھ لیں یا صدقہ کردیں یا پھر اس کو پیچ کر اس کی رقم آپس میں تقسیم کرلیں ۔
ففي المبسوط للسرخسي: «وكذلك لو ماتت عنده، أو سرقت فعليه بدلها إن كان موسرا، ولا شيء عليه إن كان معسرا وعلى هذا قالوا الموسر إذا ضلت أضحيته فاشترى أخرى، ثم وجد الأولى فله أن يضحي بأيهما شاء، وإن كان معسرا فاشتراها وأوجبها فضلت، ثم اشترى أخرى فأوجبها، ثم وجد الأولى فعليه أن يضحي بهما؛ لأن الوجوب في العين بإيجابه، وقد وجد ذلك في الثانية كالأولى.» (12/ 16)