كيا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اتوار کو اپنی بیوی کو میکے لیکر گیا تھا والدین سے ملوانے کے لئے ابھی چار دن ہوئے تو اس نے کہا کہ مجھے والدین کے گھر لے جاؤں تو میں نے کہا کہ ابھی چار دن قبل تو لے گیا ہوں اب عید کے دوسرے دن آپ کو لے جاؤنگا ،اصل میں میری والدہ بیمار تھی اس لئے میں منع کررہا تھا اور ہمارے گھر میں میری ساس آئی ہوئی تھی تو میرے گھر والوں اور میری ساس کا آپس میں جھگڑا ہوگیا جس پر میں نے غصہ میں آکر بولا اور میری ساس میری بیوی کو اپنے گھر لے جانے پر بضد تھی ،تو اس پر میں نے کہا ''اگر آج آپ اپنی والدہ کے گھر گئی اپنی والدہ کے ساتھ تو آپ میرے نکاح میں نہیں رہوگی ''یہ الفاظ دو بار بولا تھا ،اور اس کے بعد میری بیوی والدہ کے گھر نہیں گئی ،البتہ عید کے دوسرے دن میں ان کو اپنے ساتھ والدہ کے گھر لے گیا تھا ملوانے کے لئے تو معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں اور اب میری بیوی کے لئے کیا حکم ہے کہ وہ اپنی والدہ کے گھر جاسکتی ہے یا نہیں ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
صورت مسؤلہ میں سائل کے الفاظ ''تو آپ میرے نکاح میں نہیں رہوگی''سے اگراس کی نیت طلاق کی تھی تب بھی شرط (یعنی آج جانا اور والدہ کے ساتھ جانا )نہ پائے جانے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور اب اگر سائل کی بیوی اپنی والدہ کے گھر جانا چاہے تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہ ہوگی ،تاہم سائل کو آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
كما في الهندية : واذا اضافه الى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقاً مثل أن يقول لامرأته ان دخلت الدار فأنت طالق اھ (ج ا، ڈ 420، ط: ماجدية)۔
وفيه أيضاً : ولو قال ما أنت لى بامرأة أو لیست لك بزوج ونوی الطلاق يقع عند ابي حنيفة رحمه الله تعالى وعندهما لا يقع الخ(ج1، ص 375)۔