ہمارا 20 نومبر 2025 کو نکاح ہوا۔ یہ میری دوسری شادی تھی اور لڑکی کی پہلی شادی تھی۔ دونوں بالغ ہیں اور جاب کرتے ہیں۔ لڑکی جانتی تھی کہ لڑکے کی پہلے سے بیوی ہے اور ایک بیٹی ہے۔ نکاح میں لڑکے اور لڑکی کی طرف سے کوئی بھی گواہ موجود نہیں تھا، نکاح خواں اور 4 گواہ جو کہ وکیل نے ارینج کیے تھے، ان کے سامنے نکاح خواں نے نکاح پڑھایا اور لڑکے اور لڑکی نے سب کے سامنے ایجاب و قبول کیا۔ اس کے بعد لڑکا اور لڑکی اپنے اپنے گھر چلے گئے اور دونوں کے بیچ یہ طے ہوا کہ جب تک ہماری چیزیں سیٹل نہ ہو جائیں تب تک ہم نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں کروائیں گے۔ نکاح کے 10 سے 15 دن بعد جب چیزیں سیٹل نہیں ہو پائیں تو میں نے نکاح نامہ ڈسٹرائے کروا دیا۔
5 مارچ کو بیوی نے پہلی طلاق مانگی اور میں نے مجبوری میں طلاق دی اور یہ میسج سینڈ کیا:
"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
2 اپریل کو میں نے بغیر رجوع کی نیت کے ہگ اور کس 2 سے 3 بار کی اور پھر گھر آ گیا۔ بیوی نے مفتی سے پوچھا تو انہوں نے کہا رجوع ہو گیا ہے، تو بیوی نے دوسری طلاق 3 اپریل کو مانگی، جس پر میں نے دوسری طلاق کا میسج سینڈ کیا:
"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔"
3 جون کو رجوع ہوا اور 12 جون کو بیوی نے خود میرے فون سے میسج ٹائپ کیا:
"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
اور میرا ہاتھ پکڑ کر زبردستی سینڈ کر دیا۔ اس وقت میں کار ڈرائیو کر رہا تھا اور میں نے میسج پڑھا تھا کہ کیا لکھا ہے، لیکن میرے ذہن میں تھا کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی۔
13 جون صبح میں مفتی کے پاس گیا اور پوچھا کہ اس طرح طلاق ہو جاتی ہے؟ تو مفتی نے کہا ہاں ہو جاتی ہے۔ اس لیے پھر میری بیوی نے کہا جب مفتی نے کہہ دیا کہ طلاق ہو گئی تو میری سیٹسفیکشن کے لیے پھر سے طلاق کا میسج سینڈ کرو، تو میں نے میسج سینڈ کیا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
صورتِ مسئولہ میں سائل اور مذکورہ لڑکی کیلئے اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر نکاح کرنا قطعاً درست طرزِ عمل نہیں تھا، البتہ اگر یہ نکاح کفؤ میں مہرِ مثل پر ہوا ہو تو شرعاً نکاح منعقد ہو چکا تھا؛ تاہم سائل نے خلوتِ صحیحہ ہو جانے کے بعد جب مختلف اوقات میں یکے بعد دیگرے دورانِ عدت (جیسا کہ سوال میں درج تفصیل سے معلوم ہو رہی ہے) تین صریح طلاقیں دے دی ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع بھی نہیں ہو سکتا اور نہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح ہو سکتا ہے۔ لہذا سائل پر لازم ہے کہ آئندہ کے لیے مذکورہ لڑکی سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھے، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے۔ جبکہ لڑکی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ۔ (الأیۃ : 230 ، سورۃ بقرۃ ، ) ۔
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي، ج 2، ص 1243، رقم : 2639، ط : البشرى)
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله تعالی ( فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره )۔اھ (کتاب الطلاق، فصل : حکم الطلاق البائن ، ج :3 ، ص :187، ط : سعید )
و فی الدر الختار : ( ویقع بھا ) ای بھذہ الالفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار : تحت ( قولہ وما بمعناھا من الصریح ) ای مثل ما سیذکرہ من نحو : کونی طالقا و اطلقی و یا مطلقۃ بالتشدید ، و کذا المضارع اذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر ۔اھ ( کتاب الطلاق ، باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : سعید )
وفیہ ایضاً: "(والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء ... (كالوطء) فيما يجيء ... في (تأكد المهر) المسمى (و) مهر المثل بلا تسمية و (النفقة والسكنى والعدة وحرمة نكاح أختها وأربع سواها) في عدتها ... وكذا في وقوع طلاق بائن آخر على المختار۔اھ(كتاب النكاح، باب المهر،ج:3،ص:114،ط: سعید)