میں نے اپنی بیوی کو بولا اگر میں نے پھر کبھی پیسے والی گیم کھیلی تو آپ کو مجھ سے طلاق ہوگی۔ میں نے گیم تو کھیلی لیکن وہ فری والی ہے جس سے پیسے نہیں جاتے۔ اب کیا طلاق ہو گئی یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ'اگر میں نے کبھی پیسے والی گیم کھیلی، تو آپ کو مجھ سے طلاق ہوگی'، تو اس سے صرف پیسوں والے گیم کھیلنے کے ساتھ ہی طلاق معلق ہوچکی تھی ،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے پیسوں والی گیم نہیں کھیلی تو شرط پوری نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ،البتہ سائل جب پیسوں والی گیم کھیلے گا تو شرط پائی جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی ۔تاہم سائل کو چاہئے کہ لا یعنی کاموں میں لگنے اور طلاق جیسے اہم معاملہ کو ان امور کے ساتھ معلق کرنے کی بجائے کسی دینی ودنیاوی مقصد و عبادات میں اوقات صرف کرے ،اس کے ساتھ بیوی بچوں کو توجہ دیا کرے تاکہ دنیوی و اخروی کامیابیاں حاصل ہوں۔
وفی الھندیۃ:واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق ،الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ،ج:1 ،ص:488 ،ط:ماجدیہ)۔
کما فی الدر المختار : ( و تنحل ) الیمین ( بعد ) وجود ( الشرط مطلقا ) لکن ان وجد فی الملک طلقت و عتق والا لا۔اھ ( باب التعلیق ، ج : 3 ، ص : 355 ، ط : سعید )
و فی العناية شرح الهداية:(الطلاق على ضربين: صريح، وكناية. فالصريح قوله: أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي) لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا۔اھ(باب إيقاع الطلاق،ج:4،ص:3 ،ط:دار الفكر)