کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں میرے کو میرے شوہر نے تحریری طور پر تین طلاقیں دی ہیں، طلاق نامہ پر دستخط کر دئیے ہیں، تو اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے، کیا عدت کے بعد میں دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہوں کہ نہیں، نیز میرے دو بچے ہیں، ان کی پرورش کی ذمہ داری کس کی ہے، جبکہ طلاق نامہ میں حق مہر کے عوض بچوں کی کفالت میں نے لی ہے۔
سوال کے ساتھ منسلکہ طلاق نامہ اگر مطابق اصل ہو اور سائلہ کے شوہر نے اپنے ہوش و حواس میں بلاکسی جبر و اکراہ کے طلاق نامہ پر دستخط کئے ہوں ،تو ایسی صورت میں سائلہ پر طلاق نامہ پر لکھی گئی تینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،اور سائلہ ایامِ عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی، جبکہ لڑکوں کی عمر سات (7)سال مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق شرعاً ماں کو حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، ورنہ ماں کا حق ساقط ہوکر ان بچوں کی نانی اور اس کے بعد دادی ،خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا، جبکہ دورانِ پرورش بچوں کے اخراجات والد پر لازم ہونگے،چنانچہ مذکور مدت کے بعد والد بچوں کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے، البتہ دورانِ پرورش والد کو بچوں سے ملنے نہ دینا یا مذکور مدت کے بعد والدہ کو بچوں سے ملنے نہ دینا قطعاً ناجائز اور قطعِ تعلق کے زمرے میں آئیگا، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،ط:سعید)۔
وفیھا ایضاً: وإن كتب كتابة مرسومة على طريق الخطاب والرسالة مثل: أن يكتب أما بعد يا فلانة فأنت طالق ۔۔۔۔ لأن الكتابة المرسومة جارية مجرى الخطاب (الی قولہ) فدل أن الكتابة المرسومة بمنزلة الخطاب فصار كأنه خاطبها بها بالطلاق عند الحضرة ۔۔۔۔ ثم إن كتب على الوجه المرسوم ولم يعقله بشرط بأن كتب أما بعد يا فلانة فأنت وقع الطلاق عقيب كتابة لفظ الطلاق بلا فصل لما ذكرنا أن كتابة قوله: أنت طالق على طريق المخاطبة بمنزلة التلفظ بها اھ (فصل فی کتابۃ فی الطلاق، ج:3، ص:109، ط:رشیدیۃ)۔
وفی الدر المختار: تربية الولد (تثبت للأم) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) ۔۔۔ (أو غير مأمونة) الی قولہ (أو متزوجة بغير محرم) الصغير اھ (باب الحضانۃ، ج:3، ص:555، ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ: (قوله: وهي غير أجرة إرضاعه ونفقته) قال في البحر: فعلى هذا يجب على الأب ثلاثة: أجرة الرضاع، وأجرة الحضانة، ونفقة الولد اهـ ومثله في الشرنبلالية (باب الحضانۃ، ج:3، ص:561، ط:سعید)۔
وفی الدر المختار: (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر اھ۔
وفی الشامیۃ: (قوله بأنواعها) من الطعام والكسوة والسكنى، ولم أر من ذكر هنا أجرة الطبيب وثمن الأدوية، وإنما ذكروا عدم الوجوب للزوجة اھ ۔
وفیھا ایضاً: (قوله الفقير) أي إن لم يبلغ حد الكسب، فإن بلغه كان للأب أن يؤجره أو يدفعه في حرفة ليكتسب وينفق عليه من كسبه لو كان ذكرا، بخلاف الأنثى اھ (باب النفقۃ، ج:3،ص:572،ط:سعید)۔