میں اپنی بیوی کواپنے دوگھروں کےروز کےجھگڑوں سےتنگ آکراپنے بد نصیب نام سےالگ کرہاہوں ،آج کے بعد ہم دونوں کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہوگا،لہذا میں طلاق دے رہاہوں ان تین گواہوں کے سامنے(طلاق،طلاق،طلاق)۔آپ گھر والوں سے میری یہ درخواست ہےکہ میرے بچوں کو میرے گھر والوں کو نہ دے،ان کا جو بھی خرچہ ہوگا عدالت کے حکم کے مطابق دوں گا جب تک زندگی رہی تو۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل نےمذکورالفاظ ”میں طلاق دے رہاہوں طلاق،طلاق،طلاق“کے ذریعے بیوی کو تین طلاقیں دیدی ، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،چنانچہ اب عورت ایامِ عدت گزر جانے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
جبکہ طلاق کے بعد بچوں کی پرورش اور کفالت کی ذمہ داری کے بارےمیں شریعتِ مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ لڑکی کی عمر نو سال اور لڑکے کی سات سال عمر ہونے تک ماں ہی ان کی پرورش کی حقدار ہوتی ہے ، بشرطیکہ وہ بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرےاور اس دوران بچوں کے پرورش پرآنےوالےاخراجات باپ کے ذمے لازم ہوں گے،اور مذکورہ مدتِ پرورش پوری ہو نے کے بعد اگروالد انہیں اپنی تحویل میں لینا چاہےتو لے سکتاہے۔
کما قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ ۔الآیۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية (الی قولہ) سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ( کتاب الطلاق،ج:3،ص: 187،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق اھ(کتاب الطلاق،الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح،ج:1،ص: 356،ط:ماجدیہ)
وفیھا ایضا: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة.اھ(الفصل الرابع في نفقة الأولاد،ج:1،ص:56،ط:ماجديۃ)
وفيھا ايضاَ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي.( الى قوله)والأصل في ذلك أن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات فكانت جهة الأم مقدمة على جهة الأب كذا في الاختيار شرح المختار(الى قوله) وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان(الى قوله) ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أو الأم في بيت الراب فللأب أن يأخذها منها.اھ(الباب السادس عشر في الحضانة،ج:1،ص:541،ط:ماجديۃ)۔