میرے انکل گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے ہیں، میری بیوہ آنٹی، داماد اور بیٹی کے ساتھ حج کے لئے جانے کو تیار ہے، ہر چیز تیارہے حتّٰی کہ ہوائی ٹکٹ بھی،اور وہ ناقابل واپسی ہے، وہ عمر میں تقریباً 70 برس کے قریب ہیں ، میرا سوال یہ ہے کہ آیا میری آنٹی حج ادا کرنے کے لئےجا سکتی ہیں یا نہیں، جبکہ وہ بیوہ ہیں اور عدت میں ہیں ؟
کسی خاتون کا دورانِ عدّت حج کے لئے سفر کرنا جائز نہیں،اس لئے سائل کی مذکور آنٹی کو چاہیئے کہ اس سال جانے کی بجائے آئندہ سال کسی دوسرے محرم کے ساتھ جائیں ۔
کما فی الدر : (و) مع (عدم عدة عليها مطلقا) أية عدة كانت ابن مالك (والعبرة لوجوبها) أي العدة المانعة من سفرها (وقت خروج أهل بلدها) وكذا سائر الشروط اھ ۔
و فی الرد تحت : (قوله أية عدة كانت) أي سواء كانت عدة وفاة أو طلاق بائن أو رجعي اھ (2/465)۔
و فی فتح القدیر : إلا فی حال يكون طلقها أو مات عنها فی مصر فإنها لا تتخير بل يتعين عليها أن تعتد فیه عند أبي حنيفة سواء كان معها محرم أو لاوحاصل وجوه المسألة: إما أن يكون بينها وبين مصرها ومقصدها أقل من السفر فتتخير والأولى الرجوع على ما فی الكافی . وعلى ما فی النهاية وغيرها يتعين الرجوع، اھ (4/347)۔