احکام حج

قرض دار کاحج پر جانا

فتوی نمبر :
10036
| تاریخ :
2010-10-26
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

قرض دار کاحج پر جانا

اگر میرے ذمہ بینک کا کچھ قرض ہو یا کریڈٹ کارڈ کی کچھ رقم واجب الأدا ہو اور اس حالت میں،میں حج کروں تو کیا میرا حج قبول ہو گا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج تو ادا ہو جائے گا ،مگر بہتر یہ ہے کہ پہلے قرض کی ادائیگی کی جائے ،کیونکہ قرض ادا نہ کرنا بڑی بُری بات اور کبیرہ گناہوں میں سے ایک گناہ ہے ،اس لیے اداءِقرض کا اہتمام کیا جائے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مسند احمد : عن محمد بن عَبْدِ اللهِ بْنِ جَحْشٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ حَيْثُ تُوضَعُ الْجَنَائِزُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ بَيْنَ ظَهْرَيْنَا، فَرَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ قِبَلَ السَّمَاءِ فَنَظَرَ، ثُمَّ طَأْطَأَ بَصَرَهُ وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: " سُبْحَانَ اللهِ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا نَزَلَ مِنَ التَّشْدِيدِ؟ " قَالَ: فَسَكَتْنَا يَوْمَنَا وَلَيْلَتَنَا، فَلَمْ نَرَهَا خَيْرًا حَتَّى أَصْبَحْنَا. قَالَ مُحَمَّدٌ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا التَّشْدِيدُ الَّذِي نَزَلَ؟ قَالَ: " فی الدَّيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ رَجُلًا قُتِلَ فی سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فی سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ عَاشَ، ثُمَّ قُتِلَ فی سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَقْضِيَ دَيْنَهُ " اھ (5/341)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 10036کی تصدیق کریں
0     725
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات