میں اس سال حج کرنے جا رہی ہوں اور میرا ارادہ حج قران کا ہے تو مجھے کتنی دفعہ سعی کرنی ہو گی ؟میں نے شیخ عبد اللہ بن باز کی کتاب پڑھی ،اس میں وہ لکھتے ہیں کہ قران میں صرف ایک سعی کافی ہے جو کہ طواف کے بعد کی جاتی ہے ، نیز میں سعودی عرب میں مقیم ہوں تو کیا مجھے طواف ِقدوم کی ضرورت ہے؟
حجِ قرآن کرنے والے کے لیے حج و عمرہ دونوں میں سے ہر ایک کے لیے علیحدہ علیحدہ طواف اور سعی کرنا ضروری ہے، اس کے لیے ایک سعی کرنا کافی نہیں،جبکہ میقات سے باہر رہنے والے کے لیے طواف ِقدوم سنت ہے، چاہے سعودیہ عرب میں مقیم ہو یا کہیں اور۔
کما فی الدر المختار : (وطاف بالبيت طواف القدوم ويسن) هذا الطواف (للآفاقي) لأنه القادم اھ (2/ 494)۔
و فی فقہ الاسلامی و ادلۃ: ويدل لهأن صبيّ بن معبد لما طاف طوافین وسعى سعيين، قال له عمر: «هديت لسنة نبيك»، وقال علي فی القارن: «إذا أهللت بالحج والعمرة، فطف لهما طوافین، واسع لهما سعيين بالصفا والمروة» اھ (3/ 2284)۔