السلام علیکم!
حج والی قربانی کرنے سے واجب ادا ہو جائے گا یا ہر سال کی طرح عید الأضحٰی کی قربانی کرنا ہوگی؟
جو شخص حج ِقران یا تمتع کے ارادے سے جائے اس پر دمِ شکر لازم ہوتا ہے ، جبکہ مکہ مکرمہ کے قیام میں ایامِ حج کے دوران اگر پندرہ یا اس سے زائد دن ٹھہر نا پڑ رہا ہو اور سفری لازم اخراجات کے علاوہ نصاب کے بقدر مالیت موجود ہو تو ایسے شخص پر مالداری والی قربانی بھی لازم ہو جاتی ہے،یہ قربانی وہاں بھی کی جا سکتی ہے اور اپنے وطن میں بھی کروائی جا سکتی ہے۔
کما فی الدر المختار : (فتجب) التضحية: أي إراقة الدم من النعم عملا لا اعتقادا(الی قوله )(على حر مسلم مقيم) بمصر أو قرية أو بادية عيني، فلا تجب على حاج مسافرفأما أهل مكة فتلزمهم وإن حجوا اھ ( 6/313)۔
و فی الہندیة : ويجب الدم على المتمتع شكرا لما أنعم الله تعالى عليه بتيسير الجمع بين العبادتين كذا فی فتاوى قاضي خان (الی قوله ) وحكم القارن كحكم المتمتع فی وجوب الهدي إن وجده والصيام إن لم يقدر عليه كذا فی الظهيرية اھ (1/239)۔