مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ آیا حجاج کو اپنے گھروں پربھی قربانی کرنی پڑھےگی ؟ اورکیاضروری ہے تمام حاجیوں کے لیے تمتع،افراد اور قران کی نیت کیے ہوئے ہوں۔
جو شخص ایّامِ حج کے دوران مسلسل پندرہ یا اس سے زائد دن مکہ مکرمہ میں ٹھہرے اور انہی ایّام کے دوران وہ حج بھی ادا کرے اور وہ اتنی مالیت کا حامل ہو جس سے وہ صاحبِ نصاب بن جائے تو ایسے شخص پر مالداری کی وجہ سے قربانی لازم ہوگی، خواہ وہ کسی بھی حج کی نیت سے گیا ہو ، اور اگر وہ قارن یا متمتع ہو تو اس پر دم شکر بھی لازم ہوگا ، دم ِ شکر کی ادائیگی تو حدودِ حرم میں ہی لازم ہے، البتہ صاحب نصاب ہونے کی وجہ سےجو قربانی لازم ہے چاہے، تو وہیں کرے ورنہ اپنے وطن میں بھی کروا سکتا ہے ۔
کما فی الہندیة : وحكم القارن كحكم المتمتع في وجوب الهدي إن وجده والصيام إن لم يقدر عليه كذا في الظهيرية اھ (1/239)۔
و فی الشامیۃ تحت : (قوله لأنه مفرد) تعليل لما استفيد من التخيير بقوله إن شاء والذبح له أفضل، ويجب على القارن والمتمتع ط، وأما الأضحية فإن كان مسافرا فلا يجب عليه وإلا كالمكي فتجب كما في البحر اھ (2/515)۔