السلام علیکم! میں شیعہ مذہب کے عقائد (اثنا عشریہ) کے بارے میں جاننا چاہتاہوں کہ ان کے عقائد سنی مذہب سے ملتے ہیں (یعنی دونوں کے عقائد میں کیا فرق ہے؟)
شیعوں کے فرقہ اثنا عشریہ کے چند بنیادی اصول وعقائد جو اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کے خلاف ہیں یہ ہیں: (۱) نظریہ امامت: یہ شیعوں کا بنیادی عقیدہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کیا جاتاہے، اسی طرح نبی علیہ السلام کے بعد اماموں کو مبعوث کیا جاتاہے، جو احکامِ شریعت میں نبی علیہ السلام کا سا مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔ (۲) حضرات صحابہ کرامؓ سے بغض وعداوت ان کےعقیدے کے مطابق نبی علیہ السلام کی وفات کے بعد تمام صحابہؓ جنہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی وہ (نعوذباللہ) اس فعل کی وجہ سے سب کافر ہوگئے تھے، کیونکہ انہوں نے امام معصوم (حضرت علیؓ) کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی تھی۔ (۳) تحریف قرآن: شیعہ مذہب اثنا عشریہ کہتاہے جو موجودہ قرآن کریم مسلمانوں کے پاس ہے یہ اصل قرآن نہیں۔ اصلی قرآن بارہویں امام کے ساتھ کسی نامعلوم غار میں دفن ہے۔
مزید تفصیل کیلیے حضرت شاہ عبد القادر جیلانیؒ کی کتاب ’’غنیۃ الطالبین‘‘ اور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ کی کتاب ’’تحفہ اثنا عشریہ‘‘ اور شیعہ سنی اختلاف اور صراطِ مستقیم مؤلف حضرت مولانا یوسف لدھیانویؒ دیکھی جاسکتی ہیں۔
وفي حاشية ابن عابدین : نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (۴/۲۳۷)۔
وفیه ٲیضا: أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع (ٳلی قولہ) وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا اھ (۴/۲۳۷) واللہ أعلم بالصواب!