کیا جے ڈی سی سے غریب عوام کے لیے راشن لیا جا سکتا ہے خصوصاً ایسے گاؤں کے لوگ جواب فاقوں کی نوبت پر آچکے ہوں۔
مذکور ادارہ کی طرف سے راشن کی تقسیم سے مقصد محض مستحقین کی معاونت ہو، اس کے ساتھ سیاسی یا دیگر مقاصد وابستہ نہ ہوں، تو ان کی طرف سے تقسیم شدہ راشن لینے کی شرعا گنجائش ہے ، ورنہ نہیں۔
كما في الدر المختار: هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة. (ومسكين من لا شيء له) على المذهب (الى قوله (وعامل) يعم الساعي والعاشر (فيعطى) ولو غنيا لا هاشميا لأنه فرغ نفسه لهذا اھ (2/ 339)
وفى الفتاوى الهندية: لا بأس بأن يكون بين المسلم والذمي معاملة إذا كان مما لا بد منه كذا في السراجية اھ (5/ 348) والله اعلم بالصواب