کیا ہر بے گناہ یہودی اور غیر مذہب یا شیعہ کو مارنا جائز ہے، اور کیا خود کش حملہ کرنا چاہیئے، مسجد میں یا غیر مذہب کی عبادت گاہ پہ کرنا جائز ہے؟
مذکور فرقوں کے فتنہ ہونے میں تو کوئی شک نہیں مگر کسی بے گناہ چاہے یہودی، شیعہ وغیرہ ہی ہو،اس کو بلاوجہ مارنا شرعاً جائز نہیں، جبکہ خودکش حملہ تو بلاوجہ شرعی کہیں پر بھی خواہ وہ مسجد ہو یا غیر مذہب لوگوں کا عبادت خانہ کو شرعاً جائز نہیں، اور ملکِ عزیز میں اس کا عدم جواز بدرجہ اولٰی ثابت ہے، اور اس پر تمام مکاتبِ فکر کےعلماء کا اتفاق ہے، جولوگ اس کے باوجود اس طرح کے حملے کر رہے ہیں، انہیں اپنی قبر وحشر کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
کما فی تفسیر ابن کثیر ت سلامۃ: {ولا تقتلوا النفس التي حرم الله إلا بالحق ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطانا فلا يسرف في القتل إنه كان منصورا (33) }يقول تعالى ناهيا عن قتل النفس بغير حق شرعي، كما ثبت في الصحيحين؛ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "لا يحل دم امرئ مسلم يشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والزاني المحصن، والتارك لدينه المفارق للجماعة" الخ (ج5 صـ73 ط: دار طیبۃ)۔
وفی اعلاء السنن: عن ابی سعید فرعاً (من رای من منکراً فلیغرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ وذلک اضعف الایمان) وقال تحتہ قلت ولم یقل احد انہ ای قتال الکفار یجب بدون الامام، فثبت ان وجوب الجہاد بالید مشروط بوجودہ، فافھم (الی قولہ) فالاستطاعۃ الشرعیۃ ھی القدرۃ علی الفعل مع الامن عن ترتب فتنۃ وخطر لایتمکن من مقاومتھا، ومدافعتھا علیہ عادۃ، ودلیل ذلک قولہ ﷺ فان لم یستطع فبقلبہ بعد قولہ فان لم یستطع فبلسانہ الخ (ج12 صـ5 )۔