(۱) میرا پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شیعہ جو کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کا قائل نہ ہو، قرآن میں تحریف کا قائل نہ ہو، کلمہ طیبہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُترا ہوا کلمہ مانتا ہو، کیا یہ شیعہ کافر ہے؟
(۲) کیا ایسے شیعہ لڑکے سے سنی لڑکی کی شادی جائز ہے؟
(۱) شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد مختلف ہیں، اس لیے شیعہ کو کافر قرار دینے میں تفصیل ہے، وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں: مثلاً حضرت علیؓ کو خدا مانتا ہو یا قرآنِ کریم میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو یا حضرت عائشہؓ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابوبکرؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلاشبہ کافر ہے۔
البتہ جو شیعہ کسی قسم کا کوئی صریح کفریہ عقیدہ تو نہ رکھتا ہو، لیکن صحابہ کرامؓ کو بُرا بھلا کہتا ہو یا تبرا بازی وغیرہ کرتا ہو تو ایسے شیعہ کے کفر میں اختلاف ہے اور جو شیعہ حضرت علیؓ کو دیگر خلفاء ثلاثہ پر فضیلت دیتا ہو، وہ اگرچہ کافر تو نہیں، مگر فاسق و فاجر ضرور ہے، البتہ ان کے ساتھ معاملات وتعلقات رکھنے کی گنجائش ہے، مگر اس سے بھی احتراز بہرحال بہتر وافضل ہے۔
(۲) شیعہ لڑکا اگر کفریہ عقائد نہ بھی رکھتا ہو تو تب بھی کسی سنی العقیدہ لڑکی کا کفو نہیں، اس لیے اس کے ساتھ عقدِ نکاح سے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار: نعم لا شك فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشة او أنکر صحبة الصدیق أو اعتقد الالوهية فی علیّ أو أن جبرئیل غلط فی الوحی أو نحو ذلك من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔ الخ (ج۴، ص۲۳۷)
وفیه ایضًا: ان الرافضی اذا کان یسب الشیخین ویلعنهما فهو کافر وان کان یفضل علیًّا علیهما فهو مبتدع (الی قوله) وسبّ احد من الصحابة وبغضه لا یکون کفرا لکن یضلل۔ الخ (ج۴، ص۲۳۷)
وفی الفقه الإسلامی وأدلته: الدیانة او العفة او التقویٰ: المراد بہا الصلاح والاستقامة علی احکام الدین، فلیس الفاجر والفاسق کفؤًا لعفیفة او صالحة بنت صالح أو مستقیمة ، لها ولأهلها تدین وخلق حمید، سواء کان معلنًا فسقه أم غیر معلن أی لا یجهر بالفسق لکن یشهد علیه أنه فعل کذا من المفسقات۔ الخ (ج۷، ص۲۴۱) واللہ اعلم بالصواب!