السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ میں شیعہ کو کائنات کا غلیظ ترین کافر سمجھتاہوں اور اہلِ سنت والجماعت کا فتویٰ بھی یہی ہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر شیعہ کافر ہے اور یقیناً ہے تو اس کے خلاف جہاد فرض ہے یا پھر فرضِ کفایہ؟ اور جیسا کہ مسجدِ ضرار کو گرانے کا حکم ہوا تو پھر شیعہ عبادت گاہ کیلیے کیا حکم ہے؟
محض کسی شخص کے مطلقاً اور یقینی کافر ہونے کی وجہ سے اس کے خلاف جہاد اور ان کے عبادت خانے گرانے کا حکم نہیں، جبکہ شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد مختلف ہیں، اس لیے شیعہ کو کافر قرار دینے میں تفصیل ہے، وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد ونظریات یہ ہوں، مثلاً: حضرت علیؓ کو خدا مانتا ہو یا قرآن کریم میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت جبرئیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتاہو، یا حضرت عائشہؓ پر لگائے جانے والے تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا کوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتاہو، تو وہ بلاشبہ کافر ہے۔
البتہ جو شیعہ کسی قسم کا کوئی صریح کفریہ عقیدہ تو نہ رکھتاہو، لیکن صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہتاہو یا تبرا بازی وغیرہ کرتاہو تو ایسے شیعہ کے کفر میں اختلاف ہے اور جو شیعہ حضرت علیؓ کو خلفاءِ ثلاثہ پر فضیلت دیتاہو، اگرچہ کافر تو نہیں، مگر فاسق وفاجر ضرور ہے، البتہ ان کے ساتھ معاملات وتعلقات رکھنے کی گنجائش ہے، مگر اس سے بھی احتراز بہر حال بہتر وافضل ہے۔
ففي الدر المختار: (ولا) يجوز أن (يحدث بيعة، ولا كنيسة ولا صومعة، ولا بيت نار، ولا مقبرة) ولا صنما حاوي (في دار الإسلام) ولو قرية في المختار(ٳلی قوله) (ويعاد المنهدم) أي لا ما هدمه الإمام، بل ما انهدم(ٳلی قوله)وٲما القدیمة فتترك مسکنا في الفتحية ومعبدا في الصلحية اھ (۴/۲۰۶)۔
وفي رد المحتار: قوله وجاز عيادة فاسق) وهذا غير حكم المخالطة ذكر صاحب الملتقط يكره للمشهور المقتدى به الاختلاط برجل من أهل الباطل والشر إلا بقدر الضرورة، لأنه يعظم أمره بين الناس، ولو كان رجلا لا يعرف يداريه ليدفع الظلم عن نفسه من غير إثم فلا بأس به اهـ. (6/ 388)
وفي حاشية بن عابدین: نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (۴/۲۳۷)۔
وفیها ٲیضا: أن الرافضي إذا كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر، وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع (ٳلی قوله) وسب أحد من الصحابة وبغضه لا يكون كفرا اھ (۴/۲۳۷)۔
وفي الفتاوی الھندية: وھؤلاء القوم خارجون عن ملۃ الٳسلام، وٲحکامھم ٲحکام المرتدین اھ (۲/۲۶۴)۔ واللہ اعلم بالصواب!