جناب میرا سوال یہ ہے کہ یوم عاشورہ کے موقعہ پر شیعہ حضرات بہت سے صحابہ کرام خصوصاً حضرت ابوبکر و عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں گستاخیاں کرتے ہیں، اس طرح یزید بن معاویہ اور حضرت معاویہ پر بھی بہت لعن طعن کرتے ہیں، جبکہ میرا ماننا ہے کہ یزید کچھ بھی ہو ، ہے تو وہ صحابی، اور صحابہ کرام کی شان میں گستاخی ایمان سے بے دخلی والی بات ہے؟
دوسرا میرا سوال یہ ہے کہ میں نے سنا ہے حضورپاکﷺ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ تمہاری آنے والی نسلوں سے مجھے میرے خون کی بو آتی ہے، جس کی وجہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے شادی نہیں کی، اور بعد میں آپ ﷺ کے حکم سے ہی آپ نے شادی کی، اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے ایک بانجھ عورت سے شادی کی، پھر جو اللہ تعالٰی کو منظور تھا وہی ہوا، اور اس بانجھ عورت کے گھر ولادت ہوئی، اور اس بات کا آپ ﷺ کو پہلے ہی سے علم تھا، اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں؟
چاہے عاشورہ ہو یا کوئی دوسرا دن، حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنا جائز نہیں اور نہ ہی اسلاف میں سے کسی دوسرے شخص کی، اور حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے خبیث النفس لوگوں کو ان کے برے عزائم اور گندی زبان استعمال کرنے سے روکے، جبکہ یزید صحابی نہیں۔
سوال دوم کا باوجود تلاش اور جستجو کے حوالہ نہ مل سکا، سائل نے جس کتاب میں یہ پڑھا ہے اگر اس کا حوالہ صفحہ نمبر لکھ کر بھیج دے تو اس پر مکرر غور کیا جاسکتا ہے۔
کمافی سنن الترمذی: عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا رأيتم الذين يسبون أصحابي فقولوا: لعنة الله على شركم. الحدیث (ج6 صـ180 ط: دار الغرب الاسلامی)۔
وفیہ ایضاً: عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيده لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه. هذا حديث حسن صحيح. (ج6 صـ178 ط: دار الغرب الاسلامی)۔