اگر آپ اپنے کاروبار کے لئےکسی ذاتی کاروبار کرنے والے (پرائیویٹ انوسٹر) کو دس ہزار ڈالر قرض دیں اور ۵۰۰ ڈالر بطورِ نفع متعین کر لیں، تو شرعی اعتبار سے یہ سود میں شامل ہوگا؟ وضاحت سے راہ نمائی فرمائیں۔
جی ہاں! سوال میں مذکور طریقے سے قرض پر متعین نفع لینا شرعاً سود ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔ البتہ اگر مذکور کاروبار میں نفع ونقصان کی بنیاد پر شراکت داری کا عقد کیا جائے اور حاصل ہونے والے منافع میں متعین فیصد کے حساب سےنفع کی ایک مقدار اپنے لئے مقرر کر لی جائے، تو یہ شرعاً بھی جائز ہوگا۔ اور ایسا ہی کرنا چاہئیے۔
کما في اعلاء السنن: ’’عن علی امیر المؤمنین مرفوعاً: كل قرض جر منفعة فهو ربا اھ ۱۴/ ۴۹۸)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0