آپ کا ایک فتویٰ (سیریل نمبر ۹۵۲۹) جس میں آپ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں کام کرنے سے منع فرمایا ہے، جبکہ دوسرا فتویٰ (سیریل نمبر ۹۴۳۰) جس میں آپ کہتے ہیں کہ میزان بینک (اسلامی بینک) میں اکاؤنٹ کھولنا صحیح ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ جب کوئی بینک اپنی سروسز دیتا ہے پاکستان میں , تو ایک اماؤنٹ اسٹیٹ بینک کے پاس سیکیورٹی کے رکھواتا ہے ,جب میزان بینک اپنی سیکورٹی اسٹیٹ بینک کے پاس رکھوارہا ہے اور اسٹیٹ بینک کے تحت کام کررہا ہے جہاں کام کرنا صحیح نہیں ہے (یعنی کہ کسی بھی قسم کا لین دین صحیح نہیں ہے) تو پھر میزان بینک کی اسلامی بینکنگ کیسے صحیح ہوگی؟
یہ بات درست ہے کہ ہر بینک کو اپنے ڈیپازٹس کی ایک مخصوص مقدار اسٹیٹ بینک میں رکھوانے کی پابندی ہے لیکن ہماری معلومات کے مطابق غیر سودی بینک اس رقم پر کسی قسم کا کوئی نفع وصول نہیں کرتے بلکہ اس طرح رکھواتے ہیں جیسے عام مسلمان اپنی رقمیں کرنٹ اکاؤنٹ میں رکھواتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0