ایک خاتون کے پاس اپنا اس قدر زیور ہے کہ جسکو فروخت کر کے وہ اپنے اور اپنے ساتھ ایک محرم کا خرچہ اٹھا سکتی ہے، مگر اسکا شوہر اسکو اس سال جانے کی اجازت نہیں دے رہا اور وعدہ کرتا ہے کہ آئندہ سال اسکو اجازت دوں گا ،اس صورت میں اگر ایک سال تاخیر کرتے ہیں تو کیا گناہ گار ہوں گے ؟
شوہر کے کہنے کی وجہ سے اگر وہ آئندہ سال تک رُک جائے تو وہ شرعاً گناہ گار نہ ہوگی ۔
کما فی الہندیة : (وأما فرضيته) فالحج فريضة محكمة ثبتت فرضيتها بدلائل مقطوعة حتى يكفر جاحدها، وأن لا يجب في العمر إلا مرة كذا في محيط السرخسي، وهو فرض على الفور، وهو الأصح فلا يباح له التأخير بعد الإمكان إلى العام الثاني كذا في خزانة المفتين. فإذا أخره، وأدى بعد ذلك وقع أداء كذا في البحر الرائق وعند محمد - رحمه الله تعالى - يجب على التراخي والتعجيل أفضل كذا في الخلاصة. اھ (1/216)۔