ایک عورت جس کی عمر اٹھائیس سال ہے، ڈنمارک میں رہتی ہے، اور لاء پڑھ رہی ہے ،وہ حجاب پہنتی ہے، نقاب نہیں پہنتی باعزت خاتون ہے، اب اسکو لیڈی جج اور نائب حج بننے کا موقع ملا ہے، مسئلہ یہ ہیکہ اس کو یہ موقع قبول کرنا چاہیے؟ وہ ڈینش قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے ،جہاں تک مجھے معلوم ہے عورت قاضی نہیں بن سکتی، لیکن اگر وہ ڈینش قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی ،کیا وہ شرعی قانون کے حدود کے اندر ہوگا ؟ نیز اگر اس کو اس طرح بڑے پیمانے پر دیکھا جائے ،تو کیا مسلمانوں کے لیے ضروری نہیں کہ وہ یورپ کے اندر مختلف کاموں میں بڑے عہدے حاصل کریں ؟
اگر اس کے عہدہ کا تعلق عورتوں کے مسائل دیکھنا اور ان سے متعلق فیصلے کرنا ہو، اور مردوں سے اختلاط بھی نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں مذکور عہدے پر فائز ہونے کی شرعا ًبھی گنجائش ہے، ورنہ اس سے احتراز چاہیئے ۔
ففي الهداية شرح البداية: ويجوز قضاء المرأة في كل شيء إلا في الحدود والقصاص اعتبارا بشهادتهما فيهما وقد مر الوجه اھ (3/ 107) ۔
فتح القدير للكمال ابن الهمام: وفي قال المصنف (وقد مر الوجه) يعني وجه جواز قضائها، وهو أن القضاء من باب الولاية كالشهادة والمرأة من أهل الشهادة فتكون من أهل الولاية. وقيل هو قوله قبل لأن فيه شبهة البدلية، ولا يخفى أن هذا إنما يخص وجه استثناء الحدود والقصاص اھ (7/ 298)والله اعلم بالصواب