حکومتی معاملات

حدود و قصاص کی تنفیذ کب اور کن لوگوں پر ہوگی؟

فتوی نمبر :
90517
| تاریخ :
2026-01-03
معاملات / حکومت و سیاست / حکومتی معاملات

حدود و قصاص کی تنفیذ کب اور کن لوگوں پر ہوگی؟

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حدود اور قصاص کے احکامات کی تنفیذ کب ہوگی اور کیا مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں پر ہوگی حد قذف حد شرب حد سرقہ وغیرہ وغیرہ
جزاکم اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حدود و قصاص اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام ہیں، تا ہم ان کی تنفیذ افراد کے سپرد نہیں، بلکہ با اختیار اسلامی ریاست کا حق ہے، لہذا اسلامی ریاست میں مسلمانوں پر حدود وقصاص بلا اختلاف نافذہونگے،جبکہ ان غیر مسلم شہریوں پر جو اسلامی ریاست کے باشندے ہوں،ان پر وہ حدودنافذ ہونگے جن کا تعلق حقوق العباد ،جان و مال کے تحفظ اور معاشرتی نظم سے ہے، جیسے حد سرقہ ،حد قذف اور قصاص وغیرہ، اور جن کا تعلق خالص حق اللہ سے ہے، مثلاً حد شرب وغیرہ مسلم ریاست کے غیر مسلم شہری اس سے مستثنیٰ ہونگے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الاشباہ والنظائر: وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ تُقَامُ الْحُدُودُ كُلُّهَا عَلَيْهِ إلَّا حَدَّ شُرْبِ الْخَمْرِ،(احکام الذمی،ص،280،ط:دارالکتب العلمیہ
کما فی الدر :(يُحَدُّ مُسْلِمٌ) فَلَوْ ارْتَدَّ فَسَكِرَ فَأَسْلَمَ لَا يُحَدُّ لِأَنَّهُ لَا يُقَامُ عَلَى الْكُفَّارِ ظَهِيرِيَّةٌ،(کتا ب الحدود ،باب حدالشرب المحرم،ج:4 ص:37 ،ط:سعید)
وفیہ ایضا :(وَيُحَدُّ الْحُرُّ أَوْ الْعَبْدُ) وَلَوْ ذِمِّيًّا أَوْ امْرَأَةً (قَاذِفُ الْمُسْلِمِ الْحُرِّ) الثَّابِتَةُ حُرِّيَّتُهُ وَإِلَّا فَفِيهِ التَّعْزِيرُ (الْبَالِغِ الْعَاقِلِ الْعَفِيفِ) عَنْ فِعْلِ الزِّنَا،(باب حد القذف ، ج:4،ص:45،ط:سعید
وَلَوْ أُنْثَى أَوْ عَبْدًا أَوْ كَافِرًا أَوْ مَجْنُونًا حَالَ إفَاقَتِهِ (أَخْذُ مُكَلَّفٍ) و فیہ ایضا (کتاب السرقۃ:ج:4،ص:83، ط :سعید)
و فی الرد تحتہ :(قَوْلُهُ أَوْ كَافِرًا) الْأَوْلَى أَوْ ذِمِّيًّا لِمَا فِي كَافِي الْحَاكِمِ أَنَّ الْحَرْبِيَّ الْمُسْتَأْمَنَ إذَا سَرَقَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ لَمْ يُقْطَعْ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ وقال أبو يوسف أقطعه (ایضا)
و فی الدر : وَالزِّنَا الْمُوجِبُ لِلْحَدِّ (وَطْءُ) وَهُوَ إدْخَالُ قَدْرِ حَشَفَةٍ مِنْ ذَكَرِ (مُكَلَّفٍ) خَرَجَ الصَّبِيُّ وَالْمَعْتُوهُ (کتاب الحدود ،ج:4،ص:5،ط سعید)
و فی الرد تحتہ(قَوْلُهُ مُكَلَّفٍ) أَيْ عَاقِلٍ بَالِغٍ، وَلَمْ يَقُلْ مُسْلِمٍ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ شَرْطٍ فِي حَقِّ الْجَلْدِ(ایضا)
و فی الدر: (يَجِبُ الْقَوَدُ) أَيْ الْقِصَاصُ (بِقَتْلِ كُلِّ مَحْقُونِ الدَّمِ) بِالنَّظَرِ لِقَاتِلِهِ دُرَرٌ، وَسَيَتَّضِحُ عِنْدَ قَوْلِهِ وَقَتَلَ الْقَاتِلَ أَجْنَبِيٌّ (عَلَى التَّأْبِيدِ عَمْدًا) وَهُوَ الْمُسْلِمُ وَالذِّمِّيُّ(کتاب الجنایات،ج:6،ص:532،ط سعید)
وفیہ ایضا : (فَيُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَبِالْعَبْدِ) غَيْرِ الْوَقْفِ كَمَا مَرَّ خِلَافًا لِلشَّافِعِيَّ. وَلَنَا إطْلَاقُ قَوْله تَعَالَى {أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ} [المائدة: 45] فَإِنَّهُ نَاسِخٌ {الْحُرُّ بِالْحُرِّ} [البقرة: 178)الی ان قال (وَالْمُسْلِمُ بِالذِّمِّيِّ) خِلَافًا لَه(ص533)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90517کی تصدیق کریں
0     111
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • اسلام نو مسلموں کے حقوق

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • بجلی چوری کرنا کیوں حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • غیر آباد زمین کو آباد کرنےکا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • حکمران بننے کے لیے دعا کرنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرکے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • اسلام میں سیاست کی حدود ،اور موجودہ سیاست کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • کیا عورت ،جج بن سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • جو کفار و منافقین مسلمانوں کی صفوں میں ہیں انکا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • کیا کوئی تاجر مسلم ملک کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • کیا وی آئی پیز اور سیاست دانوں کیلئے سیکورٹی رکھنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • حدود و قصاص کی تنفیذ کب اور کن لوگوں پر ہوگی؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
Related Topics متعلقه موضوعات