السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
حدود اور قصاص کے احکامات کی تنفیذ کب ہوگی اور کیا مسلمانوں اور غیرمسلموں دونوں پر ہوگی حد قذف حد شرب حد سرقہ وغیرہ وغیرہ
جزاکم اللہ خیرا
واضح ہو کہ حدود و قصاص اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام ہیں، تا ہم ان کی تنفیذ افراد کے سپرد نہیں، بلکہ با اختیار اسلامی ریاست کا حق ہے، لہذا اسلامی ریاست میں مسلمانوں پر حدود وقصاص بلا اختلاف نافذہونگے،جبکہ ان غیر مسلم شہریوں پر جو اسلامی ریاست کے باشندے ہوں،ان پر وہ حدودنافذ ہونگے جن کا تعلق حقوق العباد ،جان و مال کے تحفظ اور معاشرتی نظم سے ہے، جیسے حد سرقہ ،حد قذف اور قصاص وغیرہ، اور جن کا تعلق خالص حق اللہ سے ہے، مثلاً حد شرب وغیرہ مسلم ریاست کے غیر مسلم شہری اس سے مستثنیٰ ہونگے۔
کما فی الاشباہ والنظائر: وَالْحَاصِلُ أَنَّهُ تُقَامُ الْحُدُودُ كُلُّهَا عَلَيْهِ إلَّا حَدَّ شُرْبِ الْخَمْرِ،(احکام الذمی،ص،280،ط:دارالکتب العلمیہ
کما فی الدر :(يُحَدُّ مُسْلِمٌ) فَلَوْ ارْتَدَّ فَسَكِرَ فَأَسْلَمَ لَا يُحَدُّ لِأَنَّهُ لَا يُقَامُ عَلَى الْكُفَّارِ ظَهِيرِيَّةٌ،(کتا ب الحدود ،باب حدالشرب المحرم،ج:4 ص:37 ،ط:سعید)
وفیہ ایضا :(وَيُحَدُّ الْحُرُّ أَوْ الْعَبْدُ) وَلَوْ ذِمِّيًّا أَوْ امْرَأَةً (قَاذِفُ الْمُسْلِمِ الْحُرِّ) الثَّابِتَةُ حُرِّيَّتُهُ وَإِلَّا فَفِيهِ التَّعْزِيرُ (الْبَالِغِ الْعَاقِلِ الْعَفِيفِ) عَنْ فِعْلِ الزِّنَا،(باب حد القذف ، ج:4،ص:45،ط:سعید
وَلَوْ أُنْثَى أَوْ عَبْدًا أَوْ كَافِرًا أَوْ مَجْنُونًا حَالَ إفَاقَتِهِ (أَخْذُ مُكَلَّفٍ) و فیہ ایضا (کتاب السرقۃ:ج:4،ص:83، ط :سعید)
و فی الرد تحتہ :(قَوْلُهُ أَوْ كَافِرًا) الْأَوْلَى أَوْ ذِمِّيًّا لِمَا فِي كَافِي الْحَاكِمِ أَنَّ الْحَرْبِيَّ الْمُسْتَأْمَنَ إذَا سَرَقَ فِي دَارِ الْإِسْلَامِ لَمْ يُقْطَعْ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ وقال أبو يوسف أقطعه (ایضا)
و فی الدر : وَالزِّنَا الْمُوجِبُ لِلْحَدِّ (وَطْءُ) وَهُوَ إدْخَالُ قَدْرِ حَشَفَةٍ مِنْ ذَكَرِ (مُكَلَّفٍ) خَرَجَ الصَّبِيُّ وَالْمَعْتُوهُ (کتاب الحدود ،ج:4،ص:5،ط سعید)
و فی الرد تحتہ(قَوْلُهُ مُكَلَّفٍ) أَيْ عَاقِلٍ بَالِغٍ، وَلَمْ يَقُلْ مُسْلِمٍ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ شَرْطٍ فِي حَقِّ الْجَلْدِ(ایضا)
و فی الدر: (يَجِبُ الْقَوَدُ) أَيْ الْقِصَاصُ (بِقَتْلِ كُلِّ مَحْقُونِ الدَّمِ) بِالنَّظَرِ لِقَاتِلِهِ دُرَرٌ، وَسَيَتَّضِحُ عِنْدَ قَوْلِهِ وَقَتَلَ الْقَاتِلَ أَجْنَبِيٌّ (عَلَى التَّأْبِيدِ عَمْدًا) وَهُوَ الْمُسْلِمُ وَالذِّمِّيُّ(کتاب الجنایات،ج:6،ص:532،ط سعید)
وفیہ ایضا : (فَيُقْتَلُ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَبِالْعَبْدِ) غَيْرِ الْوَقْفِ كَمَا مَرَّ خِلَافًا لِلشَّافِعِيَّ. وَلَنَا إطْلَاقُ قَوْله تَعَالَى {أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ} [المائدة: 45] فَإِنَّهُ نَاسِخٌ {الْحُرُّ بِالْحُرِّ} [البقرة: 178)الی ان قال (وَالْمُسْلِمُ بِالذِّمِّيِّ) خِلَافًا لَه(ص533)