حال کے پیش نظر اسرائیل فلسطین میں غزہ کے مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہےتو اس صورت میں یقینً ٹیکنکیں توپیں راکٹس میزائل اور دیگر اسلح خریدنے کے لیےاسرائیل کو مالی تعاون درکار ہے جو کہ اسرائیل پوری دنیا میں حلال اشیاء فروخت کر کے حاصل کررہا ہے تو پوری دنیا میں اس پر احتجاج کیا جا رہا ہے کے اسرائیلی اشیاء کا بائیکاٹ کیا جائے جبکہ ہمارے جیسے مسلمان مستند تحقیق سے فتویٰ کے منتظر ہیں۔
اس معاملے پر رہنمائی فرمائیں۔
جو ممالک مختلف اوقات میں مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے رہتے ہیں ، ان کی مصنوعات استعمال کرکے ان کی معیشت کو فائدہ پہنچانا غیرتِ ایمانی کے خلاف ہے ،اس لئے ایک مسلمان کے لئے انفرادی طور پر جس قدر ممکن ہو اسے حتیٰ المقدر مسلمانوں پر مظالم کرنے والے ممالک کو کسی بھی طرح فائدہ پہنچانے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیئے ، لیکن ملکی سطح پر ایسے ممالک کا مقابلہ فقط روایتی بائیکاٹ سے ممکن نہیں ، بلکہ دینِ اسلام سےمکمل واقفیت ، اسلامی نظام کےنفاذ ، مسلمانوں کےباہمی اتحاد و اتفاق اور مسلمانوں کی درست منصوبہ بندی سے ہی ممکن ہے ، اور اگر مسلمانوں کی جمعیت مجتمع طور پر مسلم حکمرانوں پر زور دیں کہ وہ ایسے ممالک کے پروڈکٹس کی امپورٹ پر سخت پابندی عائد کریں ، تواس سے بھی گریز نہ کیا جائے ، مگر یہ عمل دو ، چار یا چند افراد کا نہیں ، بلکہ اس مہم کےلئے باقاعدہ ایک لائحہ عمل اور ایک جمِ غفیر کی ضرورت ہے۔
کما فی الدر المحتار: (و لم نبع) في الزيلعي يحرم أن نبيع (منهم ما فيه تقويتهم على الحرب) كحديد و عبيد و خيل (و لا نحمله إليهم و لو بعد صلح) لأنه عليه الصلاة و السلام نهى عن ذلك و أمر بالميرة و هي الطعام والقماش فجاز استحسانا.
(و فی رد تحت قولہ قوله ولم نبع إلخ) أراد به التمليك بوجه كالهبة قهستاني ، بل الظاهر أن الإيجار و الإعارة كذلك أفاده الحموي ؛ لأن العلة منع ما فيه تقوية على قتالنا كما أفاده كلام المصنف (قوله يحرم) أي يكره كراهة تحريم قهستاني (قوله كحديد) و كسلاح مما استعمل للحرب، و لو صغيرا كالإبرة ، و كذا ما في حكمه من الحرير و الديباج فإن تمليكه مكروه ؛ لأنه يصنع منه الراية قهستاني (قوله و عبيد) لأنهم يتوالدون عندهم فيعودون حربا علينا مسلما كان الرقيق أو كافرا بحر (قوله ولا نحمله إليهم) أي لبيع و نحوه فلا بأس لتاجرنا أن يدخل دارهم بأمان ومعه سلاح لا يريد بيعه منهم إذا علم أنهم لا يتعرضون له و إلا فيمنع عنه كما في المحيط قهستاني ، و في كافي الحاكم لو جاء الحربي بسيف فاشترى مكانه قوسا أو رمحا أو فرسا لم يترك أن يخرج ، و كذا لو استبدل بسيفه سيفا خيرا منه ، فإن كان مثله أو دونه لم يمنع ، و المستأمن كالمسلم في ذلك إلا إذا خرج بشيء من ذلك فلا يمنع من الرجوع به. اهـ نهر (قوله و لو بعد صلح) تعميم للبيع والحمل قال في البحر ؛ لأن الصلح على شرف الانقضاء أو النقض (قوله فجاز استحسانا) أي اتباعا للنص ، لكن لا يخفى أن هذا إذا لم يكن بالمسلمين حاجة إلى الطعام فلو احتاجوه لم يجز۔(4/134)۔