سوال: بجلی چوری کر کے استعمال کرنا کیسا ہے ؟ اگر حرام ہے توحرمت کی وجہ مطلوب ہے؟سوال: کیا حکومت کا قانون شرعی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ ”بجلی “ایک ادارے کی ملکیت ہے ، متعلقہ ادارے کی اجازت و رضامندی کے بغیر کنڈا لگا کر بجلی استعمال کرنا، کسی اورکی ملکیت میں اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر تصرف کرناہے ، اور کسی اور شخص کی ملکیت میں اسکی اجازت ورضامندی کے بغیر تصرف کرنا اوراسے اپنے استعمال میں لانا قرآن و حدیث کی رو سے ممنوع عمل ہے، نیز حکومتِ وقت کی طرف سے بھی بجلی چوری کرنے پر پابندی عائد کرکے اسے قابلِ مؤاخذہ جرم قرار دیا گیا ہے ،اورحکومت ِ وقت کا ہر وہ قانون جو مفادِ عامہ کیلئے ہو اور شریعت سے متصادم نہ ہو اس پر عمل درآمد کرنا ہر شہری کی شرعی ذمہ داری ہوتی ہے ، لہذا بجلی چوری کرکے استعمال کرنا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الد المختار : (شق نهر لسقي أرضه منها أو لنصب الرحى إن لم يضر بالعامة) لأن الانتفاع بالمباح إنما يجوز إذا لم يضر بأحد كالانتفاع بشمس و قمر و هواء (6/438).
و فی رد المحتار : (قوله إن لم يضر بالعامة) فإن أضر بأن يفيض الماء و يفسد حقوق الناس أو ينقطع الماء عن النهر الأعظم أو يمنع جريان السفن تتارخانية ، فلكل واحد مسلما كان أو ذميا أو مكاتبا منعه , بزازية ،(6/438)
وفی فقہ البیوع : ان الکھرباء والغاز اصبحا الیوم من اعز الاموال التی یجری فیھا التنافس ، ویصعب ادخالھما فی الاعیان القائمہ بنفسھا، ومع ذلک یجوز بیعھما وشراؤھما، وقد تعامل الناس بذلک من غیر نکیر ، فما ذکرنا عن ابن عابدین من تعریف المال ، ھو الراجح بدون تقیدہ بالاعیان القائمہ بنفسھا، وما لیس بعین لایحکم بعدم جواز بیعہ لمجرد انہ لیس بعین ، مالم یلزم منہ محظورآخر(1/28)