السلام علیکم کیا کوئی تاجر مسلم ملک کا سربراہ یا حکومتی عہدے پر فائز ہو سکتا ہے؟ اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ اسلام میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے؟
اگر کسی تاجر میں حکومتی عہدے اور منصب سنبھالنے کی اہلیت اور صلاحیت ہو تو بلاشبہ وہ مسلم ملک کا سربراہ بھی بن سکتا ہے تاہم سوال کا منشاء اگر کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کر کے دوبارہ حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
ففي الدر المختار: الإمامة هي صغرى وكبرى؛ فالكبرى استحقاق تصرف عام على الأنام ( الى قوله) ويشترط كونه مسلما حرا ذكرا عاقلا بالغا قادرا، قرشيا لا هاشميا علويا، معصوما. (1/ 548) واللہ اعلم بالصواب