سوال یہ ہے کہ کیماڑی میں جو سمندر ہے اس پر کچھ لوگوں نے بھرائی کرکے پلاٹ بنائے ہیں، واللہ اعلم انہوں نےکے پی ٹی سے یہ پلاٹ خریدے ہیں یا نہیں؟لیکن وہ اسٹامپ پیپر پر مالکانہ حقوق کے ساتھ یہ پلاٹ آگے بیچ دیتے ہیں، کچھ لوگوں نے ان پلاٹوں پر گھر،مساجد ،مدرسے اور اسکول بھی تعمیر کیے ہیں۔
کیا کوئی شخص ایسا پلاٹ اسٹام پیپر پر خرید کر اس پر گھر تعمیر کرسکتا ہے یا نفع کی نیت سے اسے آگے فروخت کرسکتا ہے،جبکہ یہاں میٹھے پانی کی لائن،بجلی اور گیس کی سہولت بھی گورنمنٹ کی طرف سے دستیاب ہے۔
مسئولہ صورت میں اگر سمندر کا پانی پیچھے ہٹنے کی وجہ سے زمین خشک ہوگئی ہو،تو ایسی صورت میں حکومتِ وقت کی اجازت سےمذکور زمین کو آباد کیا جاسکتا ہے،اور آباد کرنے والا ہی اس زمین کا مالک شمار ہوگا،اور اس کےلیے اس زمین کو آگے فروخت کرنا بھی شرعاً درست ہوگا ۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 192)
ولو جزر ماء هذه الأنهار عن أرض فليس لمن يليها أن يضمها إلى أرض نفسه؛ لأنه يحتمل أن يعود ماؤها إلى مكانه ولا يجد إليه سبيلا فيحمل على جانب آخر فيضر، حتى لو أمن العود أو كان بإزائها من الجانب الآخر أرض موات لا يستضر أحد بحمل الماء عليه فله ذلك ويملكه إذا أحياه بإذن الإمام أو بغير إذنه على الاختلاف المعروف.