کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ میں وکالت کے پیشہ سے تعلق رکھتا ہوں میرے ایک دوست کے جاننے والے سری لنکا سے پاکستان کاروبار کے سلسلے میں ۱۹۸۸ء میں آئے، یہاں آ کر اس نے اسلام سے متاثر ہو کر ۱۹۸۹ء میں اسلام قبول کیا اور قرآن مجید کا مطالعہ کیا، اس سے پہلے وہ بدھ مت کے مذہب سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اسلام بنوری ٹاؤن مدرسہ میں قبول کیا اس کے بعد ان صاحب کا اسلامی نام عبدالوہاب رکھا گیا اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شادی کراچی میں ایک مسلمان پاکستانی لڑکی سے کرادی گئی، اس وقت وہ تین بیٹیوں کے باپ ہیں، شادی کے بعد انہوں نے پاکستانی شہریت کے لئے درخواست دی مگر حکومت پاکستان انہیں شہریت دینے سے انکار کررہی ہے بلکہ ان نو مسلم کو ملک چھوڑنے کے لئے آخری تاریخ تک دے دی ہے، مفتی صاحب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ ارسال کریں کہ اسلام نو مسلم کو کیا کیا تحفظ فراہم کرتا ہے اور حکومتِ پاکستان کی یہ کارروائی قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ نو مسلم اپنے ملک سری لنکا کسی بھی قیمت پر نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہاں اس کی بیوی بچوں کو جان کا خطرہ ہے اور ان کا وہاں مسلمان بن کر رہنا نہایت مشکل ہے۔
اسلام نو مسلم کو بھی تحفظ سمیت وہ تمام حقوق فراہم کرتا ہے جو پرانے مسلمانوں کو اسلام میں فراہم کۓ جاتے ہیں یعنی جان، مال اور آبرو کی حفاظت اور دوسرے انفرادی واجتماعی حقوق کی ادائیگی، لہٰذا حکومت پر دوسری مسلمان رعایا کا جس طرح خیال رکھنا ضروری ہے، اسی طرح جب تک شخصِ مذکور یہاں پاکستان میں مقیم ہوں تو اس کا خیال رکھنا بھی لازم ہے، باقی جہاں تک شخصِ مذکور کو پاکستانی شہریت دینے کا تعلق ہے، تو یہ امر حکومت کے ذمہ لازم نہیں، تاہم وہ جتنے وقت کا ویزہ لے کر آیا ہے اتنی مدت کے لئے اسے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے، پھر مدتِ ویزہ ختم ہونے کے بعد باوجود کوشش کے اسے اگر پاکستانی شہریت نہیں ملتی اور اپنے وطن میں رہ کر اسے حالتِ ایمان پر ثابت قدم رہنے اور بچوں کی جان کا خطرہ شدید ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے ملک کے کسی دوسرے صوبے یا مسلمانوں کی کسی بستی کو اپنا وطن بنالے، لیکن اگر قانون میں گنجائش ہو تو حکومت کو چاہئے کہ شخصِ مذکور کے ساتھ تعاون کرے۔ وﷲ اعلم!