حکومتی معاملات

اسلام نو مسلموں کے حقوق

فتوی نمبر :
58757
| تاریخ :
1996-06-05
معاملات / حکومت و سیاست / حکومتی معاملات

اسلام نو مسلموں کے حقوق

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ میں کہ میں وکالت کے پیشہ سے تعلق رکھتا ہوں میرے ایک دوست کے جاننے والے سری لنکا سے پاکستان کاروبار کے سلسلے میں ۱۹۸۸؁ء میں آئے، یہاں آ کر اس نے اسلام سے متاثر ہو کر ۱۹۸۹؁ء میں اسلام قبول کیا اور قرآن مجید کا مطالعہ کیا، اس سے پہلے وہ بدھ مت کے مذہب سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے اسلام بنوری ٹاؤن مدرسہ میں قبول کیا اس کے بعد ان صاحب کا اسلامی نام عبدالوہاب رکھا گیا اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی شادی کراچی میں ایک مسلمان پاکستانی لڑکی سے کرادی گئی، اس وقت وہ تین بیٹیوں کے باپ ہیں، شادی کے بعد انہوں نے پاکستانی شہریت کے لئے درخواست دی مگر حکومت پاکستان انہیں شہریت دینے سے انکار کررہی ہے بلکہ ان نو مسلم کو ملک چھوڑنے کے لئے آخری تاریخ تک دے دی ہے، مفتی صاحب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں فتویٰ ارسال کریں کہ اسلام نو مسلم کو کیا کیا تحفظ فراہم کرتا ہے اور حکومتِ پاکستان کی یہ کارروائی قرآن و سنت کے مطابق ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہ نو مسلم اپنے ملک سری لنکا کسی بھی قیمت پر نہیں جانا چاہتا کیونکہ وہاں اس کی بیوی بچوں کو جان کا خطرہ ہے اور ان کا وہاں مسلمان بن کر رہنا نہایت مشکل ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اسلام نو مسلم کو بھی تحفظ سمیت وہ تمام حقوق فراہم کرتا ہے جو پرانے مسلمانوں کو اسلام میں فراہم کۓ جاتے ہیں یعنی جان، مال اور آبرو کی حفاظت اور دوسرے انفرادی واجتماعی حقوق کی ادائیگی، لہٰذا حکومت پر دوسری مسلمان رعایا کا جس طرح خیال رکھنا ضروری ہے، اسی طرح جب تک شخصِ مذکور یہاں پاکستان میں مقیم ہوں تو اس کا خیال رکھنا بھی لازم ہے، باقی جہاں تک شخصِ مذکور کو پاکستانی شہریت دینے کا تعلق ہے، تو یہ امر حکومت کے ذمہ لازم نہیں، تاہم وہ جتنے وقت کا ویزہ لے کر آیا ہے اتنی مدت کے لئے اسے تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں سے ہے، پھر مدتِ ویزہ ختم ہونے کے بعد باوجود کوشش کے اسے اگر پاکستانی شہریت نہیں ملتی اور اپنے وطن میں رہ کر اسے حالتِ ایمان پر ثابت قدم رہنے اور بچوں کی جان کا خطرہ شدید ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے ملک کے کسی دوسرے صوبے یا مسلمانوں کی کسی بستی کو اپنا وطن بنالے، لیکن اگر قانون میں گنجائش ہو تو حکومت کو چاہئے کہ شخصِ مذکور کے ساتھ تعاون کرے۔ وﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58757کی تصدیق کریں
0     766
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • اسلام نو مسلموں کے حقوق

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • بجلی چوری کرنا کیوں حرام ہے ؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • غیر آباد زمین کو آباد کرنےکا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • حکمران بننے کے لیے دعا کرنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • حکومتی قوانین کی خلاف ورزی کرکے کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • اسلام میں سیاست کی حدود ،اور موجودہ سیاست کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 1
  • کیا عورت ،جج بن سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • جو کفار و منافقین مسلمانوں کی صفوں میں ہیں انکا حکم

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • کیا کوئی تاجر مسلم ملک کا سربراہ بن سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • کیا وی آئی پیز اور سیاست دانوں کیلئے سیکورٹی رکھنا جائز ہے؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
  • حدود و قصاص کی تنفیذ کب اور کن لوگوں پر ہوگی؟

    یونیکوڈ   حکومتی معاملات 0
Related Topics متعلقه موضوعات